Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
981 - 1029
روزہ دارنے بھول کر کھایا یا پیا، وہ اپنے روزہ کو پورا کرے کہ اُسے اﷲ (عزوجل) نے کھلایا اور پلایا۔'' (1) 

    حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و ابن ماجہ و دارمی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس پر قے نے غلبہ کیا، اس پر قضا نہیں اور جس نے قصداً قے کی، اس پر روزہ کی قضا ہے۔'' (2) 

    حدیث ۳: ترمذی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک شخص نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کی، میری آنکھ میں مرض ہے، کیا روزہ کی حالت میں سرمہ لگاؤں؟ فرمایا: ''ہاں۔'' (3) 

    حدیث ۴: ترمذی ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تین چیزیں روزہ نہیں توڑتیں، پچھنا اور قے اور احتلام۔'' (4) 

    تنبیہ: اس باب میں ان چیزوں کا بیان ہے، جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ رہا یہ امر کہ اُن سے روزہ مکروہ بھی ہوتا ہے یا نہیں اس سے اس باب کو تعلق نہیں، نہ یہ کہ وہ فعل جائز ہے یا ناجائز۔ 

    مسئلہ ۱: بھول کر کھایا یا پیا یا جماع کیا روزہ فاسد نہ ہوا۔ خواہ وہ روزہ فرض ہو یا نفل اورروزہ کی نیّت سے پہلے یہ چیزیں پائی گئیں یا بعد میں، مگر جب یاد دلانے پر بھی یاد نہ آیا کہ روزہ دار ہے تو اب فاسد ہو جائے گا، بشرطیکہ یاد دلانے کے بعد یہ افعال واقع ہوئے ہوں مگراس صورت میں کفارہ لازم نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲: کسی روزہ دارکو ان افعال میں دیکھے تو یاد دلانا واجب ہے، یاد نہ دلایا تو گنہگار ہوا، مگر جب کہ وہ روزہ دار بہت کمزور ہو کہ یاد دلائے گا تو وہ کھانا چھوڑ دے گا اور کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ رکھنا دشوار ہوگا اور کھا لے گا تو روزہ بھی اچھی طرح پورا کر لے گا اور دیگر عبادتیں بھی بخوبی ادا کر لے گا تو اس صورت میں یاد نہ دلانا بہتر ہے۔

     بعض مشایخ نے کہا جوان کو دیکھے تو یاد دلادے اور بوڑھے کو دیکھے تو یاد نہ دلانے میں حرج نہیں۔ مگر یہ حکم اکثر کے لحاظ سے ہے کہ جوان اکثر قوی ہوتے ہیں اور بوڑھے اکثر کمزور اور اصل حکم یہ ہے کہ جوانی اور بڑھاپے کو کوئی دخل نہیں، بلکہ قوت و ضعف (6) کا لحاظ ہے، لہٰذا اگر جوان اس قدر کمزور ہو تو یاد نہ دلانے میں حرج نہیں اوربوڑھا قوی ہو تو یاد دلانا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب أکل الناسي وشربہ وجماعہ لایفطر، الحدیث: ۱۱۵۵، ص۵۸۲. 

2۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم... إلخ، باب ماجاء فیمن استقاء عمدا، الحدیث: ۷۲۰، ج۲، ص۱۷۳. 

3۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، ابواب الصوم، باب ماجاء في الکحل للصائم، الحدیث: ۷۲۶، ج۲، ص۱۷۷. 

4۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، ابواب الصوم، باب ماجاء في الصائم یذرعہ القیئ، الحدیث: ۷۱۹، ج۲، ص۱۷۲. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج۳، ص۴۱۹. 

6۔۔۔۔۔۔ یعنی طاقت اور جسمانی کمزوری۔
Flag Counter