رکھا یا عیدکی ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: تار یا ٹیلیفون سے رویت ہلال نہیں ثابت ہوسکتی، نہ بازاری افواہ اور جنتریوں اور اخباروں میں چھپا ہونا کوئی ثبوت ہے۔ آج کل عموماً دیکھا جاتا ہے کہ انتیس ۲۹ رمضان کو بکثرت ایک جگہ سے دوسری جگہ تار بھیجے جاتے ہیں کہ چاند ہوا یا نہیں، اگر کہیں سے تار آگیا بس لو عید آگئی یہ محض ناجائز و حرام ہے۔
تار کیا چیز ہے؟ اولاً تو یہی معلوم نہیں کہ جس کا نام لکھا ہے واقعی اُسی کا بھیجا ہوا ہے اور فرض کرو اُسی کا ہو تو تمھارے پاس کیا ثبوت اور یہ بھی سہی تو تار میں اکثر غلطیاں ہوتی ہی رہتی ہیں، ہاں کا نہیں نہیں کا ہاں معمولی بات ہے اور مانا کہ بالکل صحیح پہنچا تو یہ محض ایک خبر ہے شہادت نہیں اور وہ بھی بیسوں واسطہ سے اگر تار دینے والا انگریزی پڑھا ہوا نہیں تو کسی اور سے لکھوائے گا معلوم نہیں کہ اُس نے کیا لکھوایا اُس نے کیا لکھا، آدمی کو دیا اُس نے تار دینے والے کے حوالہ کیا، اب یہاں کے تار گھر میں پہنچا تو اُس نے تقسیم کرنے والے کو دیا اُس نے اگر کسی اور کے حوالے کر دیا تو معلوم نہیں کتنے وسائط سے اُس کوملے اور اگر اسی کو دیا جب بھی کتنے واسطے ہیں پھر یہ دیکھیے کہ مسلمان مستور جس کا عادل و فاسق ہونا معلوم نہ ہو اُس تک کی گواہی معتبر نہیں اور یہاں جن جن ذریعوں سے تار پہنچا اُن میں سب کے سب مسلمان ہی ہوں، یہ ایک عقلی احتمال ہے جس کا وجود معلوم نہیں ہوتا اور اگر یہ مکتوب الیہ (2) صاحب بھی انگریزی پڑھے نہ ہوں تو کسی سے پڑھوائیں گے، اگر کسی کافر نے پڑھاتو کیا اعتبار اور مسلمان نے پڑھا تو کیا اعتماد کہ صحیح پڑھا۔ غرض شمار کیجیے تو بکثرت ایسی وجہیں ہیں جو تار کے اعتبار کو کھوتی ہیں فقہا نے خط کا تو اعتبار ہی نہ کیا اگرچہ کاتب کے دستخط تحریر پہچانتا ہو اور اُس پر اُس کی مہر بھی ہو کہ الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور مُہر مُہر کے۔ تو کجاتار۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ۲۸: ہلال (3) دیکھ کر اُس کی طرف انگلی سے اشارہ کرنا مکروہ ہے(4)، اگرچہ دوسرے کو بتانے کے لیے ہو۔ (5) (عالمگیری، درمختار)