| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
چاند دکھائی نہ دیا تھا، بلکہ رجب کی تیس ۳۰ تاریخیں پوری کر کے شعبان کا مہینہ شروع کیا تو دو روزے قضا کے رکھیں۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: دن میں ہلال دکھائی دیازوا ل سے پہلے یا بعد، بہرحال وہ آئندہ رات کاقرار دیا جائے گا یعنی اب جو رات آئے گی اس سے مہینہ شروع ہوگا تو اگر تیسویں رمضان کے دن میں دیکھا تو یہ دن رمضان ہی کا ہے شوال کا نہیں اور روزہ پورا کرنا فرض ہے اور اگر شعبان کی تیسویں تاریخ کے دن میں دیکھا تو یہ دن شعبان کا ہے رمضان کا نہیں لہٰذا آج کا روزہ فرض نہیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: ایک جگہ چاند ہوا تو وہ صرف وہیں کے لیے نہیں، بلکہ تمام جہان کے لیے ہے۔ مگر دوسری جگہ کے لیے اس کا حکم اُس وقت ہے کہ اُن کے نزدیک اُس دن تاریخ میں چاند ہونا شرعی ثبوت سے ثابت ہو جائے (3) یعنی دیکھنے کی گواہی یا قاضی کے حکم کی شہادت گزرے یا متعدد جماعتیں وہاں سے آکر خبر دیں کہ فلاں جگہ چاند ہوا ہے اور وہاں لوگوں نے روزہــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الثاني في رؤیۃ الھلال، ج۱، ص۱۹۹. 2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مطلب في اختلاف المطالع، ج۳، ص۴۱۷. 3۔۔۔۔۔۔ مجددِ اعظم، اعلیٰ حضرت ،امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن فرماتے ہیں: کہ رویت ہلال کے ثبوت کے لیے شرع میں سات طریقے ہیں: (۱) خود شہادتِرویت یعنی چاند دیکھنے والوں کی گواہی۔ (۲) شہادۃ علی الشہادۃ ۔یعنی گواہوں نے چاند خود نہ دیکھا بلکہ دیکھنے والوں نے ان کے سامنے گواہی دی اور اپنی گواہی پر انہیں گواہ کیا۔ انہوں نے اس گواہی کی گواہی دی۔ یہ وہاں ہے کہ گواہانِ اصل حاضری سے معذور ہوں۔ (۳) شہادۃ علی القضاء یعنی دوسرے کسی اسلامی شہر میں حاکم اسلام کے یہاں رویت ہلال پر شہادتیں گزریں اور اس نے ثبوتِہلال کا حکم دیا اور دو عادل گواہوں نے جواس گواہی کے وقت موجود تھے، انہوں نے دوسرے مقام پر اس قاضیئ اسلام کے روبرو گواہی گزرے اور قاضی کے حکم پر گواہی دی۔ (۴) کتاب القاضی الی القاضی یعنی قاضی شرع جسے سلطانِ اسلام نے مقدمات کا اسلامی فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کیا ہو وہ دوسرے شہر کے قاضی کو، گواہیاں گزرنے کی شرعی طریقے پر اطلاع دے۔ (۵) استفاضہ یعنی کسی اسلامی شہر سے متعد دجماعتیں آئیں اور سب یک زبان اپنے علم سے خبر دیں کہ وہاں فلاں دن رویتِ ہلال کی بنا پر روزہ ہوا یا عید کی گئی۔ (۶) اکمالِ مدت یعنی ایک مہینے کے جب تیس۳۰ دن کامل ہو جائیں تو دوسرے ماہ کا ہلال آپ ہی ثابت ہو جائے گا کہ مہینہ تیس ۳۰سے زائدکا نہ ہونا یقینی ہے۔ (۷) اسلامی شہر میں حاکمِ شرع کے حکم سے انتیس۲۹ کی شام کو مثلاً توپیں داغی گئیں یا فائر ہوئے تو خاص اس شہر والوں یا اس شہر کے گرد اگر دیہات والوں کے واسطے توپوں کی آوازیں سننا بھی ثبوت ہلال کے ذریعوں میں سے ایک ذریعہ ہے۔ (انظر: ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۴۰۵ ۔ ۴۲۰، ملخصاً ).