| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
نیّت ہی ہوئی، نہ روزہ ہوا اور اگرنفل کا پورا ارادہ ہے مگر کبھی کبھی دل میں یہ خیال گزر جاتا ہے کہ شاید آج رمضان کا دن ہو تو اس میں حرج نہیں۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: عوام کو جو یہ حکم دیا گیا کہ ضحوہ کبریٰ تک انتظار کریں، جس نے اس پر عمل کیا مگر بھول کر کھا لیا پھر اُس دن کا رمضان ہونا ظاہر ہوا تو روزہ کی نیت کر لے ہو جائے گا کہ انتظار کرنے والا روزہ دار کے حکم میں ہے اور بھول کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (2) (درمختار)چاند د یکھنے کا بیان
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
(٪یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَہِلَّۃِ ؕ قُلْ ہِیَ مَوَاقِیۡتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ؕ ) (3)
اے محبوب ! تم سے ہلال کے بارہ میں لوگ سوال کرتے ہیں، تم فرما دو وہ لوگوں کے کاموں اور حج کے لیے اوقات ہیں۔
حدیث ۱ـ: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو اور افطار نہ کرو، جب تک چاند نہ دیکھ لو اور اگر اَبر ہو تو مقدار پوری کرلو۔'' (4)
حدیث ۲ـ: نیز صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِاقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''چاند دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر افطار کرو اور اگر اَبر ہو تو شعبان کی گنتی تیس ۳۰ پوری کرلو۔'' (5)
حدیث ۳ـ: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و دارمی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، ایک اعرابی نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے۔ فرمایا: ''تُو گواہی دیتا ہے کہ اﷲ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں۔'' عرض کی، ہاں۔ فرمایا: ''تُو گواہی دیتا ہے کہ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ (عزوجل) کے رسول ہیں۔''ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الأول، ج۱، ص۲۰۰. و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، مبحث في صوم یوم الشک، ج۳، ص۴۰۳. 2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الصوم، ج۳، ص۴۰۴. 3۔۔۔۔۔۔ پ۲، البقرۃ: ۱۸۹. 4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم، إذا رأیتم الھلال فصوموا... إلخ، الحدیث: ۱۹۰۶، ج۱، ص۶۲۹. 5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم، إذارأیتم ... إلخ، الحدیث: ۱۹۰۹، ج۱، ص۶۳۰.