نے اکسٹھ روزے رکھ لیے، قضا کا دن معیّن نہ کیا تو ہوگیا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: یوم الشّک یعنی شعبان کی تیسویں تاریخ کو نفل خالص کی نیّت سے روزہ رکھ سکتے ہیں اور نفل کے سوا کوئی اور روزہ رکھا تو مکروہ ہے، خواہ مطلق روزہ کی نیّت ہو یا فرض کی یا کسی واجب کی، خواہ نیّت معیّن کی کِی ہو یا تردد کے ساتھ یہ سب صورتیں مکروہ ہیں۔ پھر اگر رمضان کی نیّت ہے تو مکروہ تحریمی ہے، ورنہ مقیم کے لیے تنزیہی اور مسافر نے اگر کسی واجب کی نیّت کی تو کراہت نہیں پھر اگر اس دن کا رمضان ہونا ثابت ہو جائے تو مقیم کے لیے بہرحال رمضان کا روزہ ہے اور اگر یہ ظاہر ہو کہ وہ شعبان کا دن تھا اور نیّت کسی واجب کی کی تھی تو جس واجب کی نیّت تھی وہ ہوا اور اگر کچھ حال نہ کُھلا تو واجب کی نیّت بے کار گئی اور مسافر نے جس کی نیّت کی بہرصورت وہی ہوا۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: اگر تیسویں تاریخ ایسے دن ہوئی کہ اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا تو اُسے روزہ رکھناافضل ہے، مثلاً کوئی شخص پیر یا جمعرات کا روزہ رکھا کرتا ہے اور تیسویں اسی دن پڑی تو رکھنا افضل ہے۔ یوہیں اگر چند روز پہلے سے رکھ رہا تھا تو اب یوم الشّک میں کراہت نہیں۔ کراہت اُسی صورت میں ہے کہ رمضان سے ایک ۱ یا دو ۲ دن پہلے روزہ رکھا جائے یعنی صرف تیس ۳۰ شعبان کو یا انتیس ۲۹ اور تیس ۳۰ کو۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: اگر نہ تو اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا نہ کئی روز پہلے سے روزے رکھے تو اب خاص لوگ روزہ رکھیں اور عوام نہ رکھیں، بلکہ عوام کے لیے یہ حکم ہے کہ ضحوہ کبریٰ تک روزہ کے مثل رہیں، اگر اس وقت تک چاند کا ثبوت ہو جائے تو رمضان کے روزے کی نیّت کر لیں ورنہ کھا پی لیں۔ خواص سے مراد یہاں علما ہی نہیں، بلکہ جو شخص یہ جانتا ہو کہ یوم الشّک میں اس طرح روزہ رکھا جاتا ہے، وہ خواص میں ہے ورنہ عوام میں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: یوم الشّک کے روزہ میں یہ پکا ارادہ کر لے کہ یہ روزہ نفل ہے تردد نہ رہے، یوں نہ ہو کہ اگر رمضان ہے تو یہ روزہ رمضان کا ہے، ورنہ نفل کا یا یوں کہ اگر آج رمضان کا دن ہے تو یہ روزہ رمضان کا ہے، ورنہ کسی اورواجب کا کہ یہ دونوں صورتیں مکروہ ہیں۔ پھر اگر اس دن کا رمضان ہونا ثابت ہو جائے تو فرض رمضان ادا ہوگا۔ ورنہ دونوں صورتوں میں نفل ہے اور گنہگار بہرحال ہوا اور یوں بھی نیّت نہ کرے کہ یہ دن رمضان کا ہے تو روزہ ہے، ورنہ روزہ نہیں کہ اس صورت میں تو نہ