مہینہ ذی الحجہ کا تھا تو اگر دونوں تیس ۳۰ یا انتیس ۲۹ کے ہیں تو چار روزے اور رکھے اور رمضان تیس کا تھا یہ انتیس کا تو پانچ اور بالعکس تو تین رکھے۔ غرض ممنوع روزے نکال کر وہ تعداد پوری کرنی ہوگی جتنے رمضان کے دن تھے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: ادائے رمضان اور نذر معیّن اور نفل کے علاوہ باقی روزے، مثلاً قضائے رمضان اور نذر غیر معیّن اور نفل کی قضا (یعنی نفلی روزہ رکھ کر توڑ دیا تھا اس کی قضا) اور نذر معیّن کی قضا اور کفّارہ کا روزہ اور حرم میں شکار کرنے کی وجہ سے جو روزہ واجب ہوا وہ اور حج میں وقت سے پہلے سر منڈانے کا روزہ اور تمتع کا روزہ، ان سب میں عین صبح چمکتے وقت یا رات میں نیّت کرنا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ جو روزہ رکھنا ہے، خاص اس معیّن کی نیّت کرے اور اُن روزوں کی نیّت اگر دن میں کی تو نفل ہوئے پھر بھی ان کا پورا کرنا ضرور ہے توڑے گا تو قضا واجب ہوگی۔ اگرچہ یہ اس کے علم میں ہو کہ جو روزہ رکھنا چاہتا ہے یہ وہ نہیں ہوگا بلکہ نفل ہوگا۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۸: یہ گمان کر کے کہ اس کے ذمّہ روزے کی قضا ہے روزہ رکھا۔ اب معلوم ہوا کہ گمان غلط تھا تو اگر فوراً توڑ دے تو توڑ سکتا ہے، اگرچہ بہتر یہ ہے کہ پورا کرلے اور فوراً نہ توڑا تو اب نہیں توڑ سکتا، توڑے گا تو قضا واجب ہے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: رات میں قضا روزے کی نیّت کی، صبح کو اُسے نفل کرنا چاہتا ہے تو نہیں کر سکتا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: نماز پڑھتے میں روزہ کی نیّت کی تو نیّت صحیح ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۳۱: کئی روزے قضا ہوگئے تو نیّت میں یہ ہونا چاہیے کہ اس رمضان کے پہلے روزے کی قضا، دوسرے کی قضا اور اگر کچھ اس سال کے قضا ہوگئے، کچھ اگلے سال کے باقی ہیں تو یہ نیّت ہونی چاہیے کہ اس رمضان کی اور اُس رمضان کی قضا اور اگر دن اور سال کو معیّن نہ کیا، جب بھی ہو جائیں گے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: رمضان کا روزہ قصداً توڑا تھا تو اس پر اس روزے کی قضا ہے اور (7) ساٹھ روزے کفارہ کے۔ اب اُس