Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
964 - 1029
دُعا، اِس کو اﷲ تعالیٰ ابرسے اوپر بلند کرتا ہے اور اس کے لیے  آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔'' اور رب عزوجل فرماتا ہے: ''مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! ضرور تیری مدد کروں گا، اگرچہ تھوڑے زمانہ بعد۔'' (1) 

    حدیث ۲۹: ابن حبان و بیہقی ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اُس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہیے  اُس سے بچا تو جو پہلے کر چکا ہے اُس کا کفارہ ہوگیا۔'' (2) 

    حدیث ۳۰: ابن ماجہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے مکّہ میں ماہِ رمضان پایا اور روزہ رکھا اوررات میں جتنا میّسر آیا قیام کیا تو اﷲ تعالیٰ اُس کے لیے  اور جگہ کے ایک لاکھ رمضان کا ثواب لکھے گا اور ہر دن ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب اور ہر رات ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب اور ہر روز جہاد میں گھوڑے پر سوار کر دینے کا ثواب اور ہر دن میں حسنہ اور ہر رات میں حسنہ لکھے گا۔'' (3) 

    حدیث ۳۱: بیہقی جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''میری اُمّت کوماہِ رمضان میں پانچ باتیں دی گئیں کہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہ ملیں۔ اوّل یہ کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے، اﷲ عزوجل ان کی طرف نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف نظر فرمائے گا، اُسے کبھی عذاب نہ کریگا۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت اُن کے مونھ کی بُو اﷲ (عزوجل) کے نزدیک مُشک سے زیادہ اچھی ہے۔ تیسری یہ ہے کہ ہر دن اور ہر رات میں فرشتے ان کے لیے  استغفار کرتے ہیں۔ چوتھی یہ کہ اﷲ عزوجل جنت کو حکم فرماتا ہے، کہتا ہے: مستعد ہو جا اور میرے بندوں کے لیے  مزّین ہو جا قریب ہے کہ دنیا کی تعب سے یہاں آکر آرام کریں۔ پانچویں یہ کہ جب آخر رات ہوتی ہے تو ان سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ کسی نے عرض کی، کیا وہ شبِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ کام کرنے والے کام کرتے ہیں، جب کام سے فارغ ہوتے ہیں اُس وقت مزدوری پاتے ہیں۔'' (4) 

    حدیث ۳۲تا۳۴: حاکم نے کعب بن عجرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سب لوگ منبر کے پاس حاضر ہوں، ہم حاضر ہوئے، جب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے، کہا: آمین۔ دوسرے پر چڑھے، کہا: آمین۔ تیسرے پر چڑھے، کہا: آمین۔'' جب منبر سے تشریف لائے، ہم نے عرض کی، آج ہم نے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الصیام، باب في الصائم لاترددعوتہ، الحدیث: ۱۷۵۲، ج۲، ص۳۴۹. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الصوم، باب فضل رمضان، الحدیث: ۳۴۲۴، ج۵، ص۱۸۲۔۱۸۳. 

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب المناسک، باب الصوم شھر رمضان بمکۃ، الحدیث: ۳۱۱۷، ج۳، ص۵۲۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، فضائل شھر رمضان، الحدیث: ۳۶۰۳، ج۳، ص۳۰۳.
Flag Counter