زکاۃ ہے اور بدن کی زکاۃ روزہ ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔'' (1)
حدیث ۲۰: نسائی و ابن خزیمہ و حاکم ابوامامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے؟ فرمایا: ''روزہ کو لازم کر لو کہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔'' میں نے عرض کی، مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے؟ ارشاد فرمایا: ''روزہ کو لازم کر لو کہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔'' انھوں نے پھر وہی عرض کی، وہی جواب ارشاد ہوا۔ (2)
حدیث ۲۱تا۲۶: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اﷲ (عزوجل) کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اﷲ تعالیٰ اُس کے مونھ کو دوزخ سے ستّر ۷۰ برس کی راہ دور فرما دے گا۔'' (3) اور اسی کی مثل نسائی و ترمذی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، اور طبرانی ابودرداء اور ترمذی ابوامامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کرتے ہیں، فرمایا: کہ ''اُس کے اور جہنم کے درمیان اﷲ تعالیٰ اتنی بڑی خندق کر دے گا، جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔'' (4)
اور طبرانی کی روایت عمرو بن عبسہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ ''دوزخ اس سے سو برس کی راہ دُور ہوگی۔'' (5) اور ابو یعلیٰ کی روایت معاذ بن انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ ''غیر رمضان میں اﷲ (عزوجل) کی راہ میں روزہ رکھا تو تیز گھوڑے کی رفتار سے سو برس کی مسافت پر جہنم سے دور ہوگا۔'' (6)
حدیث ۲۷: بیہقی عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: روزہ دار کی دُعا، افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی۔'' (7)
حدیث ۲۸: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے: ''تین شخص کی دُعا ردنہیں کی جاتی۔ روزہ دار جس وقت افطار کرتا ہے اور بادشاہ عادل اور مظلوم کی