Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
963 - 1029
زکاۃ ہے اور بدن کی زکاۃ روزہ ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔'' (1) 

    حدیث ۲۰: نسائی و ابن خزیمہ و حاکم ابوامامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے؟ فرمایا: ''روزہ کو لازم کر لو کہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔'' میں نے عرض کی، مجھے کسی عمل کا حکم فرمائیے؟ ارشاد فرمایا: ''روزہ کو لازم کر لو کہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں۔'' انھوں نے پھر وہی عرض کی، وہی جواب ارشاد ہوا۔ (2) 

    حدیث ۲۱تا۲۶: بخاری و مسلم و ترمذی و نسائی ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اﷲ (عزوجل) کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اﷲ تعالیٰ اُس کے مونھ کو دوزخ سے ستّر ۷۰ برس کی راہ دور فرما دے گا۔'' (3) اور اسی کی مثل نسائی و ترمذی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، اور طبرانی ابودرداء اور ترمذی ابوامامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کرتے ہیں، فرمایا: کہ ''اُس کے اور جہنم کے درمیان اﷲ تعالیٰ اتنی بڑی خندق کر دے گا، جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔'' (4) 

    اور طبرانی کی روایت عمرو بن عبسہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ ''دوزخ اس سے سو برس کی راہ دُور ہوگی۔'' (5) اور ابو یعلیٰ کی روایت معاذ بن انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ ''غیر رمضان میں اﷲ (عزوجل) کی راہ میں روزہ رکھا تو تیز گھوڑے کی رفتار سے سو برس کی مسافت پر جہنم سے دور ہوگا۔'' (6) 

    حدیث ۲۷: بیہقی عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: روزہ دار کی دُعا، افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی۔'' (7) 

    حدیث ۲۸: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ و ابن خزیمہ و ابن حبان ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے: ''تین شخص کی دُعا ردنہیں کی جاتی۔ روزہ دار جس وقت افطار کرتا ہے اور بادشاہ عادل اور مظلوم کی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الصیام، باب في الصوم زکاۃ الجسد، الحدیث: ۱۷۴۵، ج۲، ص۳۴۶. 

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن النسائي''، کتاب الصیام، باب ذکر الاختلاف... إلخ، الحدیث: ۲۲۲۰، ص۳۷۱. 

و ''الترغیب و الترھیب''، کتاب الصوم، الحدیث: ۲۱، ج۲، ص۵۲. 

3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب فضل الصیام في سبیل اللہ... إلخ، الحدیث: ۱۶۸۔(۱۱۵۳)، ص۵۸۱.

4۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب فضائل الجہاد، باب ماجاء في فضل الصوم... إلخ، الحدیث: ۱۶۳۰، ج۳، ص۲۳۳. 

5۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الأوسط''، باب الباء، الحدیث: ۳۲۴۹، ج۲، ص۲۶۸. 

6۔۔۔۔۔۔ ''مسند أبي یعلیٰ ''، مسندمعاذ بن أنس، الحدیث: ۱۴۸۴، ج۲، ص۳۶. 

7۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، فصل فیما یفطر الصائم علیہ، الحدیث: ۳۹۰۴، ج۳، ص۴۰۷.
Flag Counter