اور ایک عمل کا معاوضہ سات سو ہے اور ایک وہ عمل ہے، جس کا ثواب اﷲ (عزوجل) ہی جانے۔ وہ دو جو واجب کرنے والے ہیں ان میں:
(۱) ایک یہ کہ جو خدا سے اس حال میں ملے کہ خالص اسی کی عبادت کرتا تھا، کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرتا تھا، اُس کے لیے جنت واجب۔
(۲) دوسرا یہ کہ جو خدا سے ملا اس حال میں کہ اُس نے شرک کیا ہے تو اس کے لیے جہنم واجب اور
(۳) جس نے برائی کی، اس کو اسی قدر سزا دی جائے گی اور
(۴) جس نے نیکی کاارادہ کیا، مگر عمل نہ کیا تو اُس کو ایک نیکی کا بدلا دیا جائے گا اور
(۵) جس نے نیکی کی، اُسے دس گنا ثواب ملے گا اور
(۶) جس نے اﷲ (عزوجل) کی راہ میں خرچ کیا، اُس کو سات سو ۷۰۰ کا ثواب ملے گا۔ ایک درہم کا سات سو درہم اور ایک دینار کا ثواب سات سو ۷۰۰ دینار اور روزہ اﷲ عزوجل کے لیے ہے، اس کا ثواب اﷲ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔'' (1)
حدیث ۱۲تا۱۵: امام احمد باسناد حسن اوربیہقی روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''روزہ سپر ہے اور دوزخ سے حفاظت کا مضبوط قلعہ۔'' (2) اُسی کے قریب جابر و عثمان بن ابی العاص و معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے مروی۔
حدیث ۱۶ و ۱۷: ابو یعلیٰ و بیہقی سلمہ بن قیس اور احمد و بزار ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے اﷲ عزوجل کی رضا کے لیے ایک دن کا روزہ رکھا، اﷲ تعالیٰ اس کو جہنم سے اتنا دور کر دے گا جیسے کوّا کہ جب بچہ تھا، اس وقت سے اُڑتا رہا یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر مرا۔'' (3)
حدیث ۱۸: ابویعلیٰ و طبرانی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اگر کسی نے ایک دن نفل روزہ رکھا اور زمین بھر اُسے سونا دیا جائے، جب بھی اس کا ثواب پورا نہ ہوگا۔ اس کا ثواب تو قیامت ہی کے دن ملے گا۔'' (4)
حدیث ۱۹: ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہر شے کے لیے