Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
961 - 1029
فرماتے ہیں: ''جنت میں آٹھ دروازے ہیں، ان میں ایک دروازہ کا نام ریّان ہے، اس دروازہ سے وہی جائیں گے جو روزے رکھتے ہیں۔'' (1) 

    حدیث ۸: بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے  رمضان کا روزہ رکھے گا، اس کے اگلے گناہ بخش دیے  جائیں گے اور جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے  رمضان کی راتوں کا قیام کریگا، اُس کے اگلے گناہ بخش دیے  جائیں گے اور جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیے  شبِ قدر کا قیام کریگا، اُس کے اگلے گناہ بخش دیے  جائیں گے۔'' (2) 

    حدیث ۹: امام احمد و حاکم اور طبرانی کبیر میں اور ابن ابی الدُنیا اور بیہقی شعب الایمان میں عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''روزہ و قرآن بندہ کے لیے  شفاعت کریں گے، روزہ کہے گا، اے رب (عزوجل) ! میں نے کھانے اور خواہشوں سے دن میں اسے روک دیا، میری شفاعت اُس کے حق میں قبول فرما۔ قرآن کہے گا، اے رب (عزوجل) ! میں نے اسے رات میں سونے سے باز رکھا، میری شفاعت اُس کے بارے میں قبول کر۔ دونوں کی شفاعتیں قبول ہوں گی۔'' (3) 

    حدیث ۱۰: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''آدمی کے ہر نیک کام کا بدلہ دس ۱۰ سے سات سو ۷۰۰ تک دیا جاتا ہے، اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ''مگر روزہ کہ وہ میرے لیے  ہے اور اُس کی جزا میں دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش اور کھانے کو میری وجہ سے ترک کرتاہے۔ روزہ دار کے لیے  دو خوشیاں ہیں، ایک افطار کے وقت اور ایک اپنے رب (عزوجل) سے ملنے کے وقت اور روزہ دار کے مونھ کی بُو اﷲ عزوجل کے نزدیک مُشک سے زیادہ پاکیزہ ہے اور روزہ سپر ہے اور جب کسی کے روزہ کا دن ہو تو نہ بے ہودہ بکے اور نہ چیخے پھر اگر اِس سے کوئی گالی گلوچ کرے یا لڑنے پر آمادہ ہو تو کہہ دے، میں روزہ دار ہوں۔'' (4) اسی کے مثل امام مالک و ابو داود و ترمذی و نسائی اور ابن خزیمہ نے روایت کی۔ 

    حدیث ۱۱: طبرانی اوسط میں اور بیہقی ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اﷲ عزوجل کے نزدیک اعمال سات ۷ قسم کے ہیں۔ دو عمل واجب کرنے والے اور دو کا بدلہ ان کے برابر ہے اور ایک عمل کا بدلا دس ۱۰ گنا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ أبواب الجنۃ، الحدیث: ۳۲۵۷، ج۲، ص۳۹۴. 

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب صلاۃ التراویح، باب فضل من قام رمضان، الحدیث: ۲۰۰۹، ج۱، ص۶۵۸. 

و ''صحیح البخاري، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب فضل لیلۃ القدر، الحدیث: ۲۰۱۴، ج۱، ص۶۶۰. 

3۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص، الحدیث: ۶۶۳۷، ج۲، ص۵۸۶. 

4 ۔۔۔۔۔۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الصوم، الفصل الأول، الحدیث: ۱۹۵۹، ج۱، ص۵۴۱.
Flag Counter