عرش کے نیچے ایک ہوا حور عین پرچلتی ہے، وہ کہتی ہیں، اے رب! تُو اپنے بندوں سے ہمارے لیے ان کو شوہر بنا، جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور اُن کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔'' (1)
حدیث ۵: امام احمد ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''رمضان کی آخر شب میں اِس اُمّت کی مغفرت ہوتی ہے۔ عرض کی گئی، کیا وہ شبِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں ولیکن کام کرنے والے کو اس وقت مزدوری پوری دی جاتی ہے، جب کام پورا کرلے۔'' (2)
حدیث ۶: بیہقی شعب الایمان میں سلمان فارسی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر دن میں وعظ فرمایا۔ فرمایا: ''اے لوگو! تمھارے پاس عظمت والا، برکت والا مہینہ آیا، وہ مہینہ جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کے روزے اﷲ تعالیٰ نے فرض کیے اور اس کی رات میں قیام (نماز پڑھنا) تطوع (یعنی سنت) جو اس میں نیکی کا کوئی کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستّر ۷۰ فرض ادا کیے ۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مواسات (3) کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے، جو اس میں روزہ دار کو افطار کرائے، اُس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے اور اس کی گردن آگ سے آزاد کر دی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اس کے کہ اُس کے اجر میں سے کچھ کم ہو۔'' ہم نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا، جس سے روزہ افطار کرائے؟ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو دے گا، جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک خُرما یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو بھر پیٹ کھانا کھلایا، اُس کو اﷲ تعالیٰ میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اُس کا اوّل رحمت ہے اور اس کا اوسط مغفرت ہے اور اس کا آخر جہنم سے آزادی ہے جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے یعنی کام میں کمی کرے، اﷲ تعالیٰ اُسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرما دے گا۔'' (4)
حدیث ۷: صحیحین و ترمذی و نسائی و صحیح ابن خزیمہ میں سہل بن سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم