Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
959 - 1029
    ایک روایت میں ہے، کہ ''جنت کے دروازے کھول دیے  جاتے ہیں۔'' (1) 

    ایک روایت میں ہے، کہ ''رحمت کے دروازے کھول دیے  جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے  جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیے  جاتے ہیں۔'' (2) 

    اور امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ کی روایت میں ہے، ''جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنّ قید کر لیے  جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے  جاتے ہیں تو اُن میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیے  جاتے ہیں تو اُن میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور منادی پکارتا ہے، اے خیر طلب کرنے والے! متوجہ ہو اور اے شر کے چاہنے والے! باز رہ اور کچھ لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور یہ ہر رات میں ہوتا ہے۔'' (3) 

    امام احمد ونسائی کی روایت انھیں سے ہے، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''رمضان آیا، یہ برکت کا مہینہ ہے، اﷲ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ، اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے  جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے  جاتے ہیں اور سرکش شیطانوں کے طوق ڈال دیے  جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ا یسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کی بھلائی سے محروم رہا، وہ بیشک محروم ہے۔'' (4) 

    حدیث ۲: ابن ماجہ انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں۔ رمضان آیا تو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''یہ مہینہ آیا، اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس سے محروم رہا، وہ ہر چیز سے محروم رہا اور اس کی خیر سے وہی محروم ہوگا، جو پورا محروم ہے۔'' (5) 

    حدیث ۳: بیہقی ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہتے ہیں: جب رمضان کا مہینہ آتا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سب قیدیوں کو رہا فرما دیتے اور ہر سائل کو عطا فرماتے۔'' (6) 

    حدیث ۴: بیہقی شعب الایمان میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جنت ابتدائے سال سے سال آئندہ تک رمضان کے لیے  آراستہ کی جاتی ہے، جب رمضان کا پہلا دن آتاہے تو جنت کے پتّوں سے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب ہل یقال رمضان أوشھر رمضان... إلخ، الحدیث: ۱۸۹۸، ج۱، ص۶۲۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الصیام، باب فضل شہر رمضان، الحدیث: ۲۔(۱۰۷۹)، ص۵۴۳. 

3۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الصوم، با ب ماجاء في فضل شہر رمضان، الحدیث: ۶۸۲، ج۲، ص۱۵۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن النسائي''، کتاب الصیام، باب ذکر الاختلاف علی معمر فیہ، الحدیث: ۲۱۰۳، ص۳۵۵. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''، أبواب ماجاء في الصیام، باب ماجاء في فضل شھر رمضان، الحدیث: ۱۶۴۴، ج۲، ص۲۹۸. 

6۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإیمان''، باب في الصیام، فضائل شہر رمضان، الحدیث: ۳۶۲۹، ج۳، ص۳۱۱.
Flag Counter