| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
نِسَآئِکُمْ ؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنۡتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ عَلِمَ اللہُ اَنَّکُمْ کُنۡتُمْ تَخْتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیۡکُمْ وَعَفَا عَنۡکُمْ ۚ فَالۡـٰٔنَ بَاشِرُوۡہُنَّ وَابْتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللہُ لَکُمْ ۪ وَکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیۡطُ الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوۡہُنَّ وَاَنۡتُمْ عٰکِفُوۡنَ فِی الْمَسٰجِدِ ؕ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ اٰیٰتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾ ) (1)
اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا ان پر فرض ہوا تھا جو تم سے پہلے ہوئے، تاکہ تم گناہوں سے بچو چند دنوں کا۔ پھر تم میں جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو، وہ اور دنوں میں گنتی پوری کرلے اور جو طاقت نہیں رکھتے، وہ فدیہ دیں۔ ایک مسکین کا کھانا پھر جو زیادہ بھلائی کرے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمھارے لیے بہتر ہے، اگرتم جانتے ہو۔ ماہِ رمضان جس میں قرآن اُتارا گیا۔ لوگوں کی ہدایت کو اور ہدایت اور حق و باطل میں جدائی بیان کرنے کے لیے تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے تو اس کا روزہ رکھے اور جو بیمار یا سفرمیں ہو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔ اﷲ (عزوجل) تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، سختی کا ارادہ نہیں فرماتا اور تمھیں چاہیے کہ گنتی پوری کرو اور اﷲ (عزوجل) کی بڑائی بولو، کہ اُس نے تمھیں ہدایت کی اور اس امید پر کہ اس کے شکر گزار ہو جاؤ۔ اور اے محبوب (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں نزدیک ہوں، دُعا کرنے والے کی دُعا سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے تو اُنھیں چاہیے کہ میری بات قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں، اس اُمید پر کہ راہ پائیں۔ تمھارے لیے روزہ کی رات میں عورتوں سے جماع حلال کیا گیا، وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس۔ اﷲ (عزوجل) کو معلوم ہے کہ تم اپنی جانوں پرخیانت کرتے ہو تو تمھاری توبہ قبول کی اور تم سے معاف فرمایا تو اب اُن سے جماع کرو اور اسے چاہو جو اﷲ (عزوجل) نے تمھارے لیے لکھا اور کھاؤ اور پیو اس وقت تک کہ فجر کا سُپید ڈورا سیاہ ڈورے سے ممتاز ہو جائے پھر رات تک روزہ پورا کرو اور ان سے جماع نہ کرو اس حال میں کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔ یہ اﷲ (عزوجل) کی حدیں ہیں، اُن کے قریب نہ جاؤ، اﷲ (عزوجل) اپنی نشانیاں یوہیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ بچیں۔
روزہ بہت عمدہ عبادت ہے، اس کی فضیلت میں بہت حدیثیں آئیں۔ ان میں سے بعض ذکر کی جاتی ہیں۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جب رمضان آتا ہے، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔'' (2)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ پ۲، البقرۃ: ۱۸۳ ۔ ۱۸۷. 2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الصوم، باب ہل یقال رمضان أوشھر رمضان... إلخ، الحدیث: ۱۸۹۹، ج۱، ص۶۲۶.