میں سفر میں مقصد تک پہنچ جاؤں۔ اُس نے جواب دیا: حقوق بہت ہیں۔ فرشتے نے کہا: گویا میں تجھے پہچانتا ہوں، کیا تو کوڑھی نہ تھا کہ لوگ تجھ سے گھن کرتے تھے، فقیر نہ تھا۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے تجھے مال دیا، اُس نے کہا: میں تو اس مال کا نسلاً بعد نسلٍ وارث کیا گیا ہوں۔ فرشتہ نے کہا: اگر تو جھوٹا ہے تو اﷲ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا تُو تھا۔
پھر گنجے کے پاس اُسی کی صورت بن کر آیا، اُس سے بھی وہی کہا: اُس نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔ فرشتے نے کہا: اگر تو جھوٹا ہے تو اﷲ تعالیٰ تجھے ویسا ہی کر دے، جیسا تُو تھا۔
پھر اندھے کے پاس اس کی صورت وہیئات بن کر آیا اور کہا: میں مسکین شخص اور مسافر ہوں، میرے سفر میں وسائل منقطع ہوگئے، آج پہنچنے کی صورت نہیں، مگر اﷲ (عزوجل) کی مدد سے پھر تیری مدد سے میں اس کے وسیلہ سے جس نے تجھے نگاہ واپس دی، ایک بکری کا سوال کرتا ہوں جس کی وجہ سے میں اپنے سفر میں مقصد تک پہنچ جاؤں۔ اُس نے کہا: میں اندھا تھا، اﷲ تعالیٰ نے مجھے آنکھیں دیں تُو جو چاہے لے لے اور جتنا چاہے چھوڑ دے۔ خدا کی قسم! اﷲ (عزوجل) کے لیے تُو جو کچھ لے گا، میں تجھ پر مشقت نہ ڈالوں گا۔ فرشتے نے کہا: تُو اپنا مال اپنے قبضہ میں رکھ، بات یہ ہے کہ تم تینوں شخصوں کا امتحان تھا، تیرے لیے اﷲ (عزوجل) کی رضا ہے اور ان دونوں پر ناراضی۔'' (1)
حدیث ۱۸: امام احمد و ابو داود و ترمذی ام بجید رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہتی ہیں: میں نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)! مسکین دروازہ پر کھڑا ہوتا ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ گھر میں کچھ نہیں ہوتا کہ اُسے دوں، ارشاد فرمایا: ''اُسے کچھ دیدے، اگرچہ کُھر جلا ہوا۔'' (2)
حدیث ۱۹: بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کی، کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں گوشت کا ٹکڑا ہدیہ میںآیا اور حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو گوشت پسند تھا۔ انہوں نے خادمہ سے کہا: اسے گھر میں رکھ دے، شاید حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تناول فرمائیں، اُس نے طاق میں رکھ دیا۔ ایک سائل آکر دروازہ پر کھڑا ہوا اور کہا صدقہ کرو، اﷲ تعالیٰ تم میں برکت دے گا۔ لوگوں نے کہا، اﷲ (عزوجل) تجھ میں برکت دے۔ (3) سائل چلا گیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا: تمھارے یہاں کچھ کھانے کی چیز ہے؟ اُم المومنین نے عرض کی، ہاں اور خادمہ سے فرمایا: جا وہ گوشت لے آ۔