اُس نے اَبر میں سے سُنا۔ اُس نے کہا، اے اﷲ (عزوجل) کے بندے! تُو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اُس نے کہا، میں نے اُس اَبر میں سے جس کا یہ پانی ہے، ایک آواز سُنی کہ وہ تیرا نام لے کر کہتا ہے، فلاں کے باغ کو سیراب کر، تو تُو کیا کرتا ہے (کہ تیرا نام لے کر پانی بھیجا جاتا ہے)؟ جواب دیا کہ جو کچھ پیدا ہوتا اس میں سے ایک تہائی خیرات کرتا ہوں اور ایک تہائی میں اور میرے بال بچے کھاتے ہیں اور ایک تہائی بونے کے لیے رکھتا ہوں۔'' (1)
حدیث ۱۷: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''بنی اسرائیل میں تین شخص تھے۔ ایک برص والا، دوسرا گنجا، تیسرا اندھا۔ اﷲ عزوجل نے ان کا امتحان لینا چاہا، ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا، وہ فرشتہ برص والے کے پاس آیا۔ اس سے پوچھا، تجھے کیا چیز زیادہ محبوب ہے؟ اُس نے کہا: اچھا رنگ اور اچھا چمڑا اور یہ بات جاتی رہے، جس سے لوگ گھن کرتے ہیں۔ فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا، وہ گھن کی چیز جاتی رہی اور اچھا رنگ اور اچھی کھال اسے دی گئی، فرشتے نے کہا: تجھے کونسا مال زیادہ محبوب ہے؟ اُس نے اونٹ کہا یا گائے (راوی کا شک ہے، مگر برص والے اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کہا، دوسرے نے گائے)۔ اُسے دس ۱۰ مہینے کی حاملہ اونٹنی دی اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت دے۔
پھر گنجے کے پاس آیا، اُس سے کہا: تجھے کیا شے زیادہ محبوب ہے؟ اُس نے کہا: خوبصورت بال اور یہ جاتا رہے، جس سے لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا، وہ بات جاتی رہی اور خوبصورت بال اُسے دیے گئے، اُس سے کہا: تجھے کون سا مال محبوب ہے؟ اُس نے گائے بتائی۔ ایک گابھن گائے اُسے دی گئی اور کہا اﷲ تعالیٰ تیرے لیے اس میں برکت دے۔
پھر اندھے کے پاس آیا اور کہا: تجھے کیا چیز زیادہ محبوب ہے؟ اُس نے کہا: یہ کہ اﷲ تعالیٰ میری نگاہ واپس دے کہ میں لوگوں کو دیکھوں۔ فرشتہ نے ہاتھ پھیرا، اﷲ تعالیٰ نے اُس کی نگاہ واپس دی۔ فرشتہ نے پوچھا، تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ اُس نے کہا: بکری۔ اُسے ایک گابھن بکری دی۔ اب اونٹنی اور گائے اور بکری سب کے بچے ہوئے، ایک کے لیے اونٹوں سے جنگل بھر گیا۔ دوسرے کے لیے گائے سے، تیسرے کے لیے بکریوں سے۔
پھر وہ فرشتہ برص والے کے پاس اُس کی صورت اور ہیئات میں ہوکر آیا (یعنی برص والا بن کر) اور کہا: میں مرد مسکین ہوں، میرے سفر میں وسائل منقطع ہوگئے، پہنچنے کی صورت میرے لیے آج نظر نہیں آتی، مگر اﷲ (عزوجل) کی مدد سے پھر تیری مدد سے، میں اُس کے واسطے سے جس نے تجھے خوبصورت رنگ اور اچھا چمڑا اور مال دیا ہے۔ ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں، جس سے