Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
948 - 1029
کس صدقہ کا زیادہ اجر ہے؟ فرمایا: اس کا کہ صحت کی حالت میں ہو اور لالچ ہو، محتاجی کا ڈر ہو اور تونگری کی آرزو، یہ نہیں کہ چھوڑے رہے اور جب جان گلے کو آجائے تو کہے اتنا فلاں کو اور اتنا فلاں کو دینا اور یہ تو فلاں کا ہوچکا یعنی وارث کا۔'' (1) 

    حدیث ۱۲: صحیحین میں ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں میں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کعبہ معظمہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا: ''قسم ہے رب کعبہ کی! وہ ٹوٹے میں ہیں۔ میں نے عرض کی، میرے باپ ماں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر قربان وہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا: زیادہ مال والے، مگر جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کرے آگے پیچھے دہنے بائیں یعنی ہر موقع پر خرچ کرے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔'' (2) 

    حدیث ۱۳: سنن ترمذی میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سخی قریب ہے اﷲ (عزوجل) سے، قریب ہے جنت سے، قریب ہے آدمیوں سے، دُور ہے جہنم سے اور بخیل دورہے اﷲ (عزوجل) سے، دور ہے جنت سے، دور ہے آدمیوں سے، قریب ہے جہنم سے اورجاہل سخی اﷲ (عزوجل) کے نزدیک زیادہ پیارا ہے، بخیل عابد سے۔'' (3) 

    حدیث ۱۴: سُنن ابو داود میں ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''آدمی کا اپنی زندگی (یعنی صحت) میں ایک درم صدقہ کرنا، مرتے وقت کے سو درہم صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔'' (4) 

    حدیث ۱۵: امام احمد و نسائی و دارمی و ترمذی ابودرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص مرتے وقت صدقہ دیتا یا آزاد کرتا ہے، اُس کی مثال اُس شخص کی ہے کہ جب آسودہ ہو لیا تو ہدیہ کرتا ہے۔'' (5) 

    حدیث ۱۶: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ایک شخص جنگل میں تھا، اُس نے اَبر میں ایک آواز سُنی کہ فلاں کے باغ کوسیراب کر، وہ اَبر ایک کنارہ کو ہوگیا اور اُس نے پانی سنگستان میں گِرایا اور ایک نالی نے وہ سارا پانی لے لیا، وہ شخص پانی کے پیچھے ہو لیا، ایک شخص کو دیکھا کہ اپنے باغ میں کھڑا ہوا کُھرپیا سے پانی پھیر رہا ہے۔ اُس نے کہا، اے اﷲ (عزوجل) کے بندے! تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا، فلاں نام، وہی نام جو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان افضل الصدقۃ صدقۃ الصحیح الشحیح، الحدیث: ۱۰۳۲، ص۵۱۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب تغلیظ عقوبۃ من لایؤدی الزکاۃ، الحدیث: ۹۹۰، ص۴۹۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب البر والصلۃ، باب ماجاء في السخائ، الحدیث: ۱۹۶۸، ج۳، ص۳۸۷. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الوصایا، باب ماجاء في کراہیۃ الإضرار في الوصیۃ، الحدیث: ۲۸۶۶، ج۳، ص۱۵۵. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن الدارمي''، کتاب الوصایا، باب من أحب الوصیۃ ومن کرہ، الحدیث: ۳۲۲۶، ج۲، ص۵۰۵. 

و ''جامع الترمذي''، ابواب الوصایا... الخ، باب ماجاء في الرجل یتصدق ... الخ، الحدیث: ۲۱۲۳، ج۴، ص۴۴.
Flag Counter