کہتا ہے، اے اﷲ (عزوجل) ! روکنے والے کے مال کو تلف کر۔'' (1) اور اسی کے مثل امام احمد و ابن حبان و حاکم نے ابودرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔
حدیث ۶: صحیحین میں ہے کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسماء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ''خرچ کر اور شمار نہ کر کہ اﷲ تعالیٰ شمار کرکے دے گا اور بند نہ کر کہ اﷲ تعالیٰ بھی تجھ پر بند کر دے گا۔ کچھ دے جو تجھے استطاعت ہو۔'' (2)
حدیث ۷: نیز صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابنِ آدم! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔'' (3)
حدیث ۸: صحیح مسلم و سنن ترمذی میں ابو امامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے ابنِ آدم! بچے ہوئے کا خرچ کرنا، تیرے لیے بہتر ہے اور اُس کا روکنا، تیرے لیے بُرا ہے اور بقدر ضرورت روکنے پر ملامت نہیں اور اُن سے شروع کر جو تیری پرورش میں ہیں۔'' (4)
حدیث ۹: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ان دو شخصوں کی ہے جو لوہے کی زرہ پہنے ہوئے ہیں، جن کے ہاتھ سینے اور گلے سے جکڑے ہوئے ہیں تو صدقہ دینے والے نے جب صدقہ دیا وہ زرہ کشادہ ہوگئی اور بخیل جب صدقہ دینے کا ارادہ کرتا ہے، ہر کڑی اپنی جگہ کو پکڑ لیتی ہے وہ کشادہ کرنا بھی چاہتا ہے تو کشادہ نہیں ہوتی۔'' (5)
حدیث ۱۰: صحیح مسلم میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ظلم سے بچو کہ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہے اور بخل سے بچو کہ بخل نے اگلوں کو ہلاک کیا، اسی بخل نے اُنھیں خون بہانے اور حرام کو حلال کرنے پر آمادہ کیا۔'' (6)
حدیث ۱۱: نیز اُسی میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، ایک شخص نے عرض کی یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)