اﷲ تعالیٰ کی راہ میں دینا نہایت اچھا کام ہے، مال سے تم کو فائدہ نہ پہنچا تو تمھارے کیا کام آیا اور اپنے کام کا وہی ہے جو کھا پہن لیا یا آخرت کے لیے خرچ کیا، نہ وہ کہ جمع کیا اور دوسروں کے لیے چھوڑ گئے۔ اس کے فضائل میں چند حدیثیں سُنیے اور ان پر عمل کیجیے ، اﷲ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''بندہ کہتا ہے، میرا مال ہے، میرا مال ہے اور اُسے تو اس کے مال سے تین ہی قسم کا فائدہ ہے، جو کھا کر فنا کر دیا، یا پہن کر پُرانا کر دیا، یا عطا کر کے آخرت کے لیے جمع کیا اور اُس کے سوا جانے والا ہے کہ اوروں کے لیے چھوڑ جائے گا۔'' (1)
حدیث ۲: بخاری و نسائی ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''تم میں کون ہے کہ اُسے اپنے وارث کا مال، اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے؟ صحابہ نے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! ہم میں کوئی ایسا نہیں، جسے اپنا مال زیادہ محبوب نہ ہو۔ فرمایا: اپنا مال تو وہ ہے، جو آگے روانہ کر چکا اور جو پیچھے چھوڑ گیا، وہ وارث کا مال ہے۔'' (2)
حدیث ۳: امام بخاری ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اگر میرے پاس اُحد برابر سونا ہو تو مجھے یہی پسند آتا ہے کہ تین راتیں نہ گزرنے پائیں اور اُس میں کا میرے پاس کچھ رہ جائے، ہاں اگر مجھ پر دَین ہو تو اُس کے لیے کچھ رکھ لوں گا۔'' (3)
حدیث ۴و۵: صحیح مسلم میں انھیں سے مروی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی دن ایسا نہیں کہ صبح ہوتی ہے، مگر دو فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان میں ایک کہتا ہے، اے اﷲ (عزوجل) ! خرچ کرنے والے کو بدلہ دے اور دوسرا