Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
945 - 1029
    حدیث ۲۴،۲۵: ابو داود و ترمذی بافادہ تصحیح و تحسین و حاکم بافادہ تصحیح عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جسے فاقہ پہنچا اور اُس نے لوگوں کے سامنے بیان کیا تو اُس کا فاقہ بند نہ کیا جائے گا اور اگر اس نے اﷲ تعالیٰ سے عرض کی تو اﷲ عزوجل جلد اُسے بے نیاز کر دے گا، خواہ جلد موت دے دے یا جلد مالدار کر دے۔'' (1) اور طبرانی کی روایت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ ''حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو بھوکا یا محتاج ہوا اور اس نے آدمیوں سے چھپایا اور اﷲ تعالیٰ کے حضور عرض کی تو اﷲ تعالیٰ پر حق ہے کہ ایک سال کی حلال روزی اس پر کشادہ فرمائے۔'' (2) 

    بعض سائل کہہ دیا کرتے ہیں کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے دو، خدا کے واسطے دو، حالانکہ اس کی بہت سخت ممانعت آئی ہے۔ ایک حدیث میں اُسے ملعون فرمایا گیا ہے۔ اور ایک حدیث میں بدترین خلائق اور اگر کسی نے اس طرح سوال کیا تو جب تک بُری بات کا سوال نہ ہو یا خود سوال بُرا نہ ہو (جیسے مالدار یا ایسے شخص کا بھیک مانگنا جو قوی تندرست کمانے پر قادر ہو) اور یہ سوال کو بلا دقت پورا کر سکتا ہے تو پورا کرنا ہی ادب ہے کہ کہیں بروئے ظاہر حدیث یہ بھی اُسی وعید کا مستحق نہ ہو(3) ، وہاں اگر سائل مُتعنّت ہو (4) تو نہ دے۔ نیز یہ بھی لحاظ رہے کہ مسجد میں سوال نہ کرے، خصوصاً جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر کہ یہ حرام ہے، بلکہ بعض علما فرماتے ہیں: کہ ''مسجد کے سائل کو اگر ایک پیسہ دیا تو ستّر پیسے اور خیرات کرے کہ اس ایک پیسہ کا کفارہ ہو۔'' (5) مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ الکریم نے ایک شخص کو عرفہ کے دن عرفات میں سوال کرتے دیکھا، اُسے دُرّے لگائے اور فرمایا: کہ اس دن میں اور ایسی جگہ غیر خدا سے سوال کرتا ہے۔ (6)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب في الاستعفاف، الحدیث: ۱۶۴۵، ج۲، ص۱۷۰. 

2۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الصغیر''للطبرانی ، الحدیث: ۲۱۴،ج۱، ص۱۴۱. 

3۔۔۔۔۔۔ طبرانی معجم کبیر میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ رسول اللہ صلی تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: 

((ملعون من سال بوجہ اللہ و ملعون من سئِل بوجہ اللہ ثم منع سائلہ مالم یسال ہجرا )). 

(''الترغیب و الترھیب''، کتاب الصدقات، ترہیب السائل أن یسأل بوجہ اللہ غیر الجنۃ... إلخ، الحدیث: ۱، ج۱، ص۳۴۰). 

تجنیس ناصری پھر تا تار خانیہ پھر ہندیہ میں ہے: 

اذا قال السا ئل بحق اللہ تعالیٰ اوبحق محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم ان تعطینی کذا لا یحب علیہ فی الحکم 

والاحسن فی المروء ۃ ان یعطیہ. وعن ابن المبارک قال یعجبنی اذا سأل سائل بوجہ اللہ تعالیٰ ان لا یعطی۔ ۱۲ منہ 

(انظر: ''ردالمحتار''، کتاب الہبۃ، مطلب في معنی التملیک، ج۱۲، ص۶۴۹.) 

4۔۔۔۔۔۔ یعنی سوال کرنے والا خود اپنی ذلّت کے درپے ہو یعنی پیشہ ور بھکاری ہو۔ 

5۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الہبۃ، مطلب في معنی التملیک، ج۱۲، ص۶۴۹. 

6۔۔۔۔۔۔ ''مشکاۃ المصابیح''، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ، الحدیث: ۱۸۵۵، ج۱، ص۵۱۴.
Flag Counter