Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
944 - 1029
جوغنی بننا چاہے گا، اﷲ (عزوجل) اُسے غنی کر دے گا اور جو صبر کرنا چاہے گا، اﷲ تعالیٰ اُسے صبر دے گا اور صبر سے بڑھ کر اور اس سے زیادہ وسیع عطا کسی کو نہ ملی۔'' (1) 

    حدیث ۲۱: حضرت امیر المومنین فاروقِ اعظم عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کہ لالچ محتاجی ہے اور نا اُمیدی تونگری۔ آدمی جب کسی چیز سے نا امید ہو جاتا ہے تو اس کی پرواہ نہیں رہتی۔ (2) 

    حدیث ۲۲: امام بخاری و مسلم فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، فرماتے ہیں: کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے عطا فرماتے تو میں عرض کرتا، کسی ایسے کو دیجیے جو مجھ سے زیادہ حاجت مند ہو، ارشاد فرمایا: ''اسے لو اور اپنا کر لو اور خیرات کردو، جو مال تمھارے پاس بے طمع اور بے مانگے آجائے، اسے لے لو اور جو نہ آئے تو اُس کے پیچھے اپنے نفس کو نہ ڈالو۔'' (3) 

    حدیث ۲۳: ابو داود انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ایک انصاری نے حاضرِ خدمت اقدس ہو کر سوال کیا، ارشاد فرمایا: ''کیا تمھارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟ عرض کی، ہے تو، ایک ٹاٹ ہے جس کا ایک حصہ ہم اوڑھتے ہیں اور ایک حصہ بچھاتے ہیں اور ایک لکڑی کا پیالہ ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں، ارشاد فرمایا: میرے حضور دونوں چیزوں کو حاضر کرو، وہ حاضر لائے، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اپنے دستِ مبارک میں لے کر ارشاد فرمایا: انھیں کون خریدتا ہے؟ ایک صاحب نے عرض کی، ایک درہم کے عوض میں خریدتا ہوں، ارشاد فرمایا: ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے؟ دو یا تین بار فرمایا، کسی اور صاحب نے عرض کی، میں دو درہم پر لیتا ہوں، انھیں یہ دونوں چیزیں دے دیں اور درہم لے لیے اور انصاری کو دونوں درہم دے کر ارشاد فرمایا: ایک کا غلّہ خرید کر گھر ڈال آؤ اور ایک کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ، وہ حاضر لائے، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اپنے دستِ مبارک سے اُس میں بنےٹ ڈالا اور فرمایا: جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور پندرہ دن تک تمھیں نہ دیکھوں (یعنی اتنے دنوں تک یہاں حاضر نہ ہونا) وہ گئے، لکڑیاں کاٹ کر بیچتے رہے، اب حاضر ہوئے تو اُنکے پاس دس درہم تھے، چند درہم کا کپڑا خریدا اور چند کا غلّہ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اس سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن سوال تمھارے مونھ پر چھالا ہو کر آتا۔ سوال درست نہیں، مگر تین شخص کے لیے، ایسی محتاجی والے کے لیے جو اُسے زمین پر لٹا دے یا تاوان والے کے لیے جو رسوا کر دے یا خون والے (دیت) کے لیے جو اُسے تکلیف پہنچائے۔'' (4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب التعفف والصبر... إلخ، الحدیث: ۱۰۵۳، ص۵۲۴. 

2۔۔۔۔۔۔ ''حلیۃ الأولیاء و طبقات الأصفیاء''، رقم: ۱۲۵، ج۱، ص۸۷. 

3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الأحکام، باب رزق الحکام والعاملین علیھا، الحدیث: ۷۱۶۴، ج۴، ص۴۶۱. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب ماتجوز فیہ المسألۃ، الحدیث: ۱۶۴۱، ج۲، ص۱۶۸.
Flag Counter