Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
943 - 1029
    حدیث ۱۶: مسلم و ابو داود و نسائی قبیصہ بن مخارق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں: مجھ پر ایک مرتبہ تاوان لازم آیا۔ میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا، فرمایا: ''ٹھہرو ہمارے پاس صدقہ کا مال آئے گا تو تمھارے لیے حکم فرمائیں گے، پھر فرمایا: اے قبیصہ! سوال حلال نہیں، مگر تین باتوں میں کسی نے ضمانت کی ہو (یعنی کسی قوم کی طرف سے دیت کا ضامن ہوا یا آپس کی جنگ میں صلح کرائی اور اس پر کسی مال کا ضامن ہوا) تو اسے سوال حلال ہے، یہاں تک کہ وہ مقدار پائے پھر باز رہے یا کسی شخص پر آفت آئی کہ اُس کے مال کو تباہ کر دیا تو اسے سوال حلال ہے، یہاں تک کہ بسر اوقات کے لیے پاجائے یا کسی کو فاقہ پہنچا اور اُس کی قوم کے تین عقلمند شخص گواہی دیں (1) کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے تو اسے سوال حلال ہے، یہاں تک کہ بسر اوقات کے لیے حاصل کرلے اور ان تین باتوں کے سوا اے قبیصہ سوال کرنا حرام ہے کہ سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔'' (2) 

    حدیث ۱۷و۱۸: امام بخاری و ابن ماجہ زبیر بن عوّام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کوئی شخص رسّی لے کر جائے اور اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لا کر بیچے اور سوال کی ذلّت سے اﷲ تعالیٰ اس کے چہرہ کو بچائے یہ اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے کہ لوگ اُسے دیں یا نہ دیں۔'' (3) اسی کے مثل امام بخاری و مسلم و امام مالک و ترمذی و نسائی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔ 

    حدیث ۱۹: امام مالک و بخاری و مسلم و ابو داود و نسائی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما تھے، صدقہ کا اور سوال سے بچنے کا ذکر فرما رہے تھے، یہ فرمایا: کہ ''اوپروالا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اورنیچے والا مانگنے والا۔'' (4) 

    حدیث ۲۰: امام مالک و بخاری و مسلم و ابو داود و ترمذی و نسائی ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ انصارمیں سے کچھ لوگوں نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے سوال کیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عطا فرمایا، پھر مانگا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عطا فرمایا، پھر مانگا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے عطا فرمایا، یہاں تک وہ مال جو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے پاس تھا ختم ہوگیا پھر فرمایا: ''جو کچھ میرے پا س مال ہوگا، اُسے میں تم سے اُٹھا نہ رکھوں گا اور جو سوال سے بچنا چاہے گا، اﷲ تعالیٰ اُسے بچائے گا اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ تین شخصوں کی گواہی جمہورکے نزدیک بطور استحباب ہے اور یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جس کا مالدار ہونا معلوم و مشہور ہے تو بغیر گواہ اس کا 

قول مسلم نہیں اور جس کا مالدار ہونا معلوم نہ ہو تو فقط اس کا کہہ دینا کافی ہے۔ ۱۲ منہ 

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب من تحل لہ المسألۃ، الحدیث: ۱۰۴۴، ص۵۱۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث: ۱۴۷۱، ج۱، ص۴۹۷. 

4 ۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان الید العلیا خیرٌ من الید السفلی... إلخ، الحدیث: ۱۰۳۳، ص۵۱۵.
Flag Counter