Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
942 - 1029
    حدیث ۸و۹: امام احمد بہ سند جید و طبرانی و بزار عمران بن حصین رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''غنی کا سوال کرنا، قیامت کے دن اس کے چہرہ میں عیب ہوگا۔'' (1) اور بزار کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ''غنی کا سوال آگ ہے، اگر تھوڑا دیا گیا تو تھوڑی اور زیادہ دیا تو زیادہ۔'' (2) اور اسی کے مثل امام احمد و بزار و طبرانی نے ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔ 

    حدیث ۱۰: طبرانی کبیر میں اور ابن خزیمہ اپنی صحیح میں اور ترمذی اور بیہقی حبشی بن جنادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص بغیر حاجت سوال کرتا ہے، گویا وہ انگارا کھاتا ہے۔'' (3) 

    حدیث ۱۱: مسلم و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو مال بڑھانے کے لیے سوال کرتا ہے، وہ انگارے کا سوال کرتا ہے تو چاہے زیادہ مانگے یا کم کا سوال کرے۔'' (4) 

    حدیث ۱۲: ابو داود و ابن حبان و ابن خزیمہ سہل بن حنظلیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا ہے جو اُسے بے پرواہ کرے، وہ آگ کی زیادتی چاہتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی، وہ کیا مقدار ہے، جس کے ہوتے سوال جائز نہیں؟ فرمایا: صبح و شام کا کھانا۔'' (5) 

    حدیث ۱۳: ابن حبان اپنی صحیح میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص لوگوں سے سوال کرے، اس لیے کہ اپنے مال کو بڑھائے تو وہ جہنم کا گرم پتھر ہے، اب اسے اختیار ہے، چاہے تھوڑا مانگے یا زیادہ طلب کرے۔'' (6) 

    حدیث ۱۴و۱۵: امام احمد و ابو یعلیٰ و بزار نے عبدالرحمن بن عوف اور طبرانی نے صغیر میں اُم المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا اور حق معاف کرنے سے قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ بندہ کی عزت بڑھائے گا اور بندہ سوال کا دروازہ نہ کھولے گا، مگر اﷲ تعالیٰ اس پر محتاجی کا دروازہ کھولے گا۔'' (7)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث عمران بن حصین، الحدیث: ۱۹۸۴۲، ج۷، ص۱۹۳. 

2۔۔۔۔۔۔ ''مسند البزار''، مسند عمران بن حصین، الحدیث: ۳۵۷۲، ج۹، ص۴۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الکبیر''، باب الحاء، الحدیث: ۳۵۰۶، ج۴، ص۱۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب کراہۃ المسألۃ للناس، الحدیث: ۱۰۴۱، ص۵۱۸. 

5 ۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب من یعطیٰ من الصدقۃ وحدالغنی، الحدیث: ۱۶۲۹، ج۲، ص۱۶۴. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان''، کتاب الزکاۃ، باب المسألۃ... إلخ، الحدیث: ۳۳۸۲، ج۵، ص۱۶۶. 

7 ۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، حدیث عبدالرحمن بن عوف، الحدیث: ۱۶۷۴، ج۱، ص۴۱۰.
Flag Counter