مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے، گھر میں ہزاروں روپے ہیں سود کا لین دین کرتے زراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پیشہ ہے واہ صاحب واہ! کیا ہم اپنا پیشہ چھوڑ دیں۔ حالانکہ ایسوں کو سوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو، اُسے جائز نہیں کہ ان کو دے۔
اب چند حدیثیں سنیے! دیکھیے کہ آقائے دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایسے سائلوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔
حدیث ۱: بخاری و مسلم عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''آدمی سوال کرتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس کے چہرہ پر گوشت کا ٹکڑا نہ ہوگا۔'' (1) یعنی نہایت بے آبرو ہوکر۔
حدیث ۲تا۴: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن حبان سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''سوال ایک قسم کی خراش ہے کہ آدمی سوال کر کے اپنے مونھ کو نوچتا ہے، جو چاہے اپنے مونھ پر اس خراش کو باقی رکھے اورجو چاہے چھوڑ دے، ہاں اگر آدمی صاحبِ سلطنت سے اپنا حق مانگے یا ایسے امر میں سوال کرے کہ اُس سے چارہ نہ ہو (2) (تو جائز ہے)۔'' اور اسی کے مثل امام احمد نے عبداﷲ بن عمر اور طبرانی نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے روایت کی۔
حدیث ۵: بیہقی نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص لوگوں سے سوال کرے، حالانکہ نہ اُسے فاقہ پہنچا، نہ اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا تو قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اُس کے مونھ پر گوشت نہ ہوگا۔'' اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جس پر نہ فاقہ گزرا اور نہ اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں اور سوال کا دروازہ کھولے اﷲ تعالیٰ اُس پر فاقہ کا دروازہ کھول دے گا، ایسی جگہ سے جو اس کے دل میں بھی نہیں۔'' (3)
حدیث ۶ و ۷: نسائی نے عائذ بن عمرو رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ سوال کرنے میں کیا ہے تو کوئی کسی کے پاس سوال کرنے نہ جاتا۔'' (4) اسی کی مثل طبرانی نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی۔