| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
ہونے کے بعد اور عید گاہ جانے سے پہلے ادا کر دے۔ (1) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: ایک شخص کا فطرہ ایک مسکین کو دینا بہتر ہے اور چند مساکین کو دے دیا جب بھی جائز ہے۔ یوہیں ایک مسکین کو چند شخصوں کا فطرہ دینا بھی بلاخلاف جائز ہے اگرچہ سب فطرے ملے ہوئے ہوں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: شوہر نے عورت کو اپنا فطرہ ادا کرنے کا حکم دیا، اُس نے شوہر کے فطرہ کے گیہوں اپنے فطرہ کے گیہووں میں ملا کر فقیر کو دے دیے اور شوہر نے ملانے کا حکم نہ دیا تھا تو عورت کا فطرہ ادا ہوگیا شوہر کا نہیں مگر جب کہ ملا دینے پر عرف جاری ہو تو شوہر کا بھی ادا ہو جائے گا۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: عورت نے شوہر کو اپنا فطرہ ادا کرنے کا اذن دیا، اس نے عورت کے گیہوں اپنے گیہووں میں ملا کر سب کی نیّت سے فقیر کو دے دیے جائز ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکاۃ کے ہیں یعنی جن کو زکاۃ دے سکتے ہیں، انھیں فطرہ بھی دے سکتے ہیں اور جنھیں زکاۃ نہیں دے سکتے، انھیں فطرہ بھی نہیں سوا عامل کے کہ اس کے لیے زکاۃ ہے فطرہ نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: اپنے غلام کی عورت کو فطرہ دے سکتے ہیں، اگرچہ اُس کا نفقہ اُسی پر ہو۔ (6) (درمختار)سوال کسے حلال ہے اور کسے نہیں
آج کل ایک عام بلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھے خاصے تندرست چاہیں تو کما کر اوروں کو کھلائیں، مگر انہوں نے اپنے وجود کو بیکار قرار دے رکھا ہے، کون محنت کرے مصیبت جھیلے،بے مشقت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے۔ ناجائز طور پر سوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بہتیرے ایسے ہیں کہ مزدوری تو مزدوری، چھوٹی موٹی تجارت کو ننگ و عار خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لیے بے عزتی و بے غیرتی ہے مایہ عزت جانتے ہیں اور بہتوں نے تو بھیک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۶. و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲. 2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، مطلب في مقدار الفطرۃ بالمد الشامی، ج۳، ص۳۷۷. 3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۳۷۸. 4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، 5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، مطلب في مقدار الفطرۃ بالمد الشامی، ج۳، ص۳۷۹. 6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۸۰.