Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
939 - 1029
    مسئلہ ۲۶: گیہوں، جَو، کھجوریں، منقے دیے جائیں تو ان کی قیمت کا اعتبار نہیں، مثلاً نصف صاع عمدہ جَو جن کی قیمت ایک صاع جَو کے برابر ہے یا چہارم صاع کھرے گیہوں جو قیمت میں آدھے صاع گیہوں کے برابر ہیں یا نصف صاع کھجوریں دیں جو ایک صاع جَو یا نصف صاع گیہوں کی قیمت کی ہوں یہ سب ناجائز ہے جتنا دیا اُتنا ہی ادا ہوا، باقی اس کے ذمہ باقی ہے ادا کرے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۲۷: نصف صاع جَو اور چہارم صاع گیہوں دیے یا نصف صاع جَو اور نصف صاع کھجور تو بھی جائز ہے۔ (2) (عالمگیری، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۸: گیہوں اور جَو ملے ہوئے ہوں اور گیہوں زیادہ ہیں تو نصف صاع دے ورنہ ایک صاع۔ (3) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۹: گیہوں اور جَو کے دینے سے اُن کا آٹا دینا افضل ہے اور اس سے افضل یہ کہ قیمت دیدے، خواہ گیہوں کی قیمت دے یا جَو کی یا کھجور کی مگر گرانی میں خود ان کا دینا قیمت دینے سے افضل ہے اور اگر خراب گیہوں یا جَو کی قیمت دی تو اچھے کی قیمت سے جو کمی پڑے پوری کرے۔ (4) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۰: ان چار چیزوں کے علاوہ اگر کسی دوسری چیز سے فطرہ ادا کرنا چاہے، مثلاً چاول، جوار، باجرہ یا اور کوئی غلّہ یا اور کوئی چیز دینا چاہے تو قیمت کا لحاظ کرنا ہوگا یعنی وہ چیز آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جَو کی قیمت کی ہو، یہاں تک کہ روٹی دیں تو اس میں بھی قیمت کا لحاظ کیا جائے گا اگرچہ گیہوں یا جَو کی ہو۔ (5) (درمختار، عالمگیری وغیرہما) 

    مسئلہ ۳۱: اعلیٰ درجہ کی تحقیق اور احتیاط یہ ہے، کہ صاع کا وزن تین سو اکاون ۳۵۱ روپے بھر ہے اور نصف صاع ایک سو پچھتر ۱۷۵ روپے اٹھنی بھر اوپر۔ (6) (فتاویٰ رضویہ) 

    مسئلہ ۳۲: فطرہ کا مقدم کرنا مطلقاً جائز ہے جب کہ وہ شخص موجود ہو، جس کی طرف سے ادا کرتا ہو اگرچہ رمضان سے پیشتر ادا کر دے اور اگر فطرہ ادا کرتے وقت مالک نصاب نہ تھا پھر ہوگیا تو فطرہ صحیح ہے اور بہتر یہ ہے کہ عید کی صبح صادق
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲، وغیرہ. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲. 

3۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۳. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۳۷۶، و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۱ ۔ ۱۹۲. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق، ص۱۹۱، و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۳، وغیرہما. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۰، ص۲۹۵.
Flag Counter