Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
934 - 1029
و تنقیص شانِ رسالت کرتے اور شائع کرتے ہیں، جن کو اکابر علمائے حرمین طیبین نے بالاتفاق کافر و مرتد فرمایا۔ (1) اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہیں، انھیں زکاۃ دینا حرام و سخت حرام ہے اور دی تو ہرگز ادا نہ ہوگی۔ 

    مسئلہ ۵۳: جس کے پاس آج کھانے کو ہے یا تندرست ہے کہ کما سکتا ہے اُسے کھانے کے لیے سوال حلال نہیں اور بے مانگے کوئی خود دے دے تو لینا جائز اور کھانے کو اُس کے پاس ہے مگر کپڑا نہیں تو کپڑے کے لیے سوال کر سکتا ہے۔ یوہیں اگر جہاد یا طلبِ علمِ دین میں مشغول ہے تو اگرچہ صحیح تندرست کمانے پر قادر ہو اُسے سوال کی اجازت ہے، جسے سوال جائز نہیں اُس کے سوال پر دینا بھی ناجائز دینے والا بھی گنہگار ہوگا۔ (2) (درمختار) 

    مسئلہ ۵۴: مستحب یہ ہے کہ ایک شخص کو اتنا دیں کہ اُس دن اُسے سوال کی حاجت نہ پڑے اور یہ اُس فقیر کی حالت کے اعتبار سے مختلف ہے، اُس کے کھانے بال بچوں کی کثرت اور دیگر امور کا لحاظ کرکے دے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
صدقہ فطر کا بیان
    حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر ایک صاع خرما یا جَو، غلام و آزاد مرد وعورت چھوٹے اور بڑے مسلمانوں پر مقرر کی اور یہ حکم فرما یا: کہ ''نماز کوجانے سے پیشتر ادا کردیں۔'' (4) 

    حدیث ۲: ابو داود ونسائی کی روایت میں ہے کہ عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما نے آخررمضان میں فرمایا: اپنے روزے کا صدقہ ادا کرو، اس صدقہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا، ایک صاع خُرما یا جَو یا نصف صاع گیہوں۔ (5)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ تفصیلی معلومات کے لیے اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت ،مجددِ دین و ملت، علامہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کی کتاب''حُسَّامُ الْحَرَمَیْنِ عَلٰی مَنْحَرِ الْکُفْرِ وَالمَیْن'' کا مطالعہ فرمالیجئے۔''حُسَّامُ الْحَرَمَیْن'' کی اہمیت کے پیش نظر،ا میر اہلسنت، بانیئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: تَمْہِیْدُ اْلِایْمَان اور حُسَّامُ الْحَرَمَیْن کے کیا کہنے! واللہ العظیم جلّ جلالہٗ میرے آقا امام احمد رضا علیہ رحمۃ الرحمن نے یہ کتابیں لکھ کر دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی کر دیا۔ تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے میری مَدَنی التجاء ہے کہ پہلی فرصت میں ان کتابوں کا مطالعہ فرما لیں۔'' آپ کے عطا کردہ مدنی انعامات میں سے ایک مدنی انعام ہے کہ: ''کیا آپ نے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کی کُتُب تَمْہِیْدُ اْلِایْمَان اور حُسَّامُ الْحَرَمَیْن پڑھ یاسن لی ہیں؟'' 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۷. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في حوائج الأصلیۃ، ج۳، ص۳۵۸. 

4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، أبواب صدقۃ الفطر، باب فرض صدقۃ الفطر، الحدیث: ۱۵۰۳، ج۱، ص۵۰۷. 

5 ۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب من روی نصف صاع من قمح، الحدیث: ۱۶۲۲، ج۲، ص۱۶۱.
Flag Counter