وہ مصرفِ زکاۃ تھا تو ہوگئی۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۴۹: زکاۃ وغیرہ صدقات میں افضل یہ ہے کہ اوّلاً اپنے بھائیوں بہنوں کو دے پھر اُن کی اولاد کو پھر چچا اور پھوپیوں کو پھر ان کی اولاد کو پھر ماموں اور خالہ کو پھر اُن کی اولاد کو پھر ذوی الارحام یعنی رشتہ والوں کو پھر پڑوسیوں کو پھر اپنے پیشہ والوں کو پھر اپنے شہر یا گاؤں کے رہنے والوں کو۔ (2) (جوہرہ، عالمگیری)
حدیث میں ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے اُمتِ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ! قسم ہے اُس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، اﷲ تعالیٰ اس شخص کے صدقہ کو قبول نہیں فرماتا، جس کے رشتہ دار اس کے سلوک کرنے کے محتاج ہوں اور یہ غیروں کو دے، قسم ہے اُس کی جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، اﷲ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر نہ فرمائے گا۔'' (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۰: دوسرے شہر کو زکاۃ بھیجنا مکروہ ہے، مگر جب کہ وہاں اُس کے رشتے والے ہوں تو اُن کے لیے بھیج سکتا ہے یا وہاں کے لوگوں کو زیادہ حاجت ہے یا زیادہ پرہیزگار ہیں یا مسلمانوں کے حق میں وہاں بھیجنا زیادہ نافع ہے یا طالبِ علم کے لیے بھیجے یا زاہدوں کے لیے یا دارالحرب میں ہے اور زکاۃ دارالاسلام میں بھیجے یا سال تمام سے پہلے ہی بھیج دے، ان سب صورتوں میں دوسرے شہر کو بھیجنا بلاکراہت جائز ہے۔ (4) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵۱: شہرسے مراد وہ شہر ہے جہاں مال ہو، اگرخود ایک شہر میں ہے اور مال دوسرے شہر میں تو جہاں مال ہو وہاں کے فقرا کو زکاۃ دی جائے اور صدقہ فطر میں وہ شہر مراد ہے جہاں خود ہے، اگر خود ایک شہر میں ہے اُس کے چھوٹے بچے اور غلام دوسرے شہر میں تو جہاں خود ہے وہاں کے فقرا پر صدقہ فطر تقسیم کرے۔ (5) (جوہرہ، عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: بدمذہب کو زکاۃ دینا جائز نہیں۔ (6) (درمختار) جب بدمذہب کا یہ حکم ہے تو وہابیہ زمانہ کہ توہینِ خدا