Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
935 - 1029
    حدیث ۳: ترمذی شریف میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جد ہٖ مروی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا کہ مکہ کے کوچوں میں اعلان کر دے کہ صدقہ فطر واجب ہے۔ (1) 

    حدیث ۴: ابو داود و ابن ماجہ و حاکم ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر مقرر فرمائی کہ لغو اور بیہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہو جائے اورمساکین کی خورش (2) ہو جائے۔ (3) 

    حدیث ۵: دیلمی و خطیب و ابن عساکر انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''بندہ کا روزہ آسمان و زمین کے درمیان معلّق رہتا ہے ،جب تک صدقہ فطر ادا نہ کرے۔'' (4) 

    مسئلہ ۱: صدقہ فطر واجب ہے، عمر بھر اس کا وقت ہے یعنی اگر ادا نہ کیا ہو تو اب ادا کر دے۔ ادا نہ کرنے سے ساقط نہ ہوگا، نہ اب ادا کرنا قضا ہے بلکہ اب بھی ادا ہی ہے اگرچہ مسنون قبل نمازِ عید ادا کر دینا ہے۔ (5) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۲: صدقہ فطر شخص پر واجب ہے مال پر نہیں، لہٰذا مر گیا تو اس کے مال سے ادا نہیں کیا جائے گا۔ ہاں اگر ورثہ بطورِ احسان اپنی طرف سے ادا کریں تو ہوسکتا ہے کچھ اُن پر جبر نہیں اور اگر وصیّت کر گیا ہے تو تہائی مال سے ضرور ادا کیا جائے گا اگرچہ ورثہ اجازت نہ دیں۔ (6) (جوہرہ وغیرہ) 

    مسئلہ ۳: عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہوگیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب ہے۔ (7) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴: صدقہ فطر ہر مسلمان آزاد مالکِ نصاب پر جس کی نصاب حاجت اصلیہ سے فارغ ہو واجب ہے۔ اس میں عاقل بالغ اور مال نامی ہونے کی شرط نہیں۔ (8) (درمختار) مال نامی اور حاجت اصلیہ کا بیان گزر چکا، اس کی صورتیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزکاۃ، باب ماجاء في صدقۃ الفطر، الحدیث: ۶۷۴، ج۲، ص۱۵۱. 

2۔۔۔۔۔۔ یعنی خوراک۔ 

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر، الحدیث: ۱۶۰۹، ج۲، ص۱۵۷. 

4۔۔۔۔۔۔ ''تاریخ بغداد''، رقم: ۴۷۳۵، ج۹، ص۱۲۲. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۲، وغیرہ. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ص۱۷۴، وغیرہ. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲. 

8۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۲ ۔ ۳۶۵.
Flag Counter