Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
932 - 1029
گزرا۔ (1) (جوہرہ) 

    مسئلہ ۴۴: جن لوگوں کی نسبت بیان کیا گیا کہ انھیں زکاۃ دے سکتے ہیں، اُن سب کا فقیر ہونا شرط ہے، سوا عامل کے کہ اس کے لیے فقیر ہونا شرط نہیں اور ابن السبیل اگرچہ غنی ہو، اُس وقت حکم فقیر میں ہے، باقی کسی کو جو فقیر نہ ہو زکاۃ نہیں دے سکتے۔ (2) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۴۵: جو شخص مرض الموت میں ہے اس نے زکاۃ اپنے بھائی کو دی اور یہ بھائی اس کا وارث ہے تو زکاۃ عنداﷲ ادا ہوگئی، مگر باقی وارثوں کو اختیار ہے کہ اس سے اس زکاۃ کو واپس لیں کہ یہ وصیت کے حکم میں ہے اور وارث کے لیے بغیر اجازت دیگر ورثہ وصیت صحیح نہیں۔ (3) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۴۶: جو شخص اس کی خدمت کرتا اور اس کے یہاں کے کام کرتا ہے اسے زکاۃ دی یا اس کو دی جس نے خوشخبری سنائی یا اُسے دی جس نے اُس کے پاس ہدیہ بھیجا یہ سب جائز ہے، ہاں اگر عوض کہہ کر دی تو ادا نہ ہوئی۔ عید، بقر عید میں خدّام مرد وعورت کو عیدی کہہ کر دی تو ادا ہوگئی۔ (4) (جوہرہ، عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۷: جس نے تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں اورزکاۃ دے دی بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مصرف زکاۃ ہے یا کچھ حال نہ کُھلا تو ادا ہوگئی اور اگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غنی تھا یا اُس کے والدین میں کوئی تھا یا اپنی اولاد تھی یا شوہر تھا یا زوجہ تھی یا ہاشمی یا ہاشمی کا غلام تھا یا ذمّی تھا، جب بھی ادا ہوگئی اور اگر یہ معلوم ہوا کہ اُس کا غلام تھا یا حربی تھا تو ادا نہ ہوئی۔ اب پھر دے اور یہ بھی تحری ہی کے حکم میں ہے کہ اُس نے سوال کیا، اس نے اُسے غنی نہ جان کر دے دیا یا وہ فقیروں کی جماعت میں انھیں کی وضع میں تھا اُسے دے دیا۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۴۸: اگر بے سوچے سمجھے دے دی یعنی یہ خیال بھی نہ آیا کہ اُسے دے سکتے ہیں یا نہیں اور بعد میں معلوم ہوا کہ اُسے نہیں دے سکتے تھے تو ادا نہ ہوئی، ورنہ ہوگئی اور اگر دیتے وقت شک تھا اور تحری نہ کی یا کی مگر کسی طرف دل نہ جما یا تحری کی اور غالب گمان یہ ہوا کہ یہ زکاۃ کا مصرف نہیں اور دے دیا تو ان سب صورتوں میں ادا نہ ہوئی مگر جبکہ دینے کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ واقعی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، ص۱۶۷. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۴ ۔ ۳۴۱، وغیرہ. 

3۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۴. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب من یجوز دفع الصدقۃ... إلخ، ص۱۶۹. 

و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۹۰. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق، ص۱۸۹، و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۳.
Flag Counter