Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
931 - 1029
    مسئلہ ۳۹: (۹) بنی ہاشم کوزکاۃ نہیں دے سکتے۔ نہ غیر انھیں دے سکے، نہ ایک ہاشمی دوسرے ہاشمی کو۔ 

    بنی ہاشم سے مُراد حضرت علی و جعفر و عقیل اور حضرت عباس و حارث بن عبدالمطلب کی اولادیں ہیں۔ ان کے علاوہ جنھوں نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اعانت نہ کی، مثلاً ابو لہب کہ اگرچہ یہ کافر بھی حضرت عبدالمطلب کا بیٹا تھا، مگر اس کی اولادیں بنی ہاشم میں شمار نہ ہوں گی۔ (1) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۴۰: بنی ہاشم کے آزاد کیے ہوئے غلاموں کو بھی نہیں دے سکتے تو جو غلام اُن کی مِلک میں ہیں، اُنھیں دینا بطریق اَولیٰ ناجائز۔ (2) (درمختار وغیرہ، عامہ کتب) 

    مسئلہ ۴۱: ماں ہاشمی بلکہ سیدانی ہو اور باپ ہاشمی نہ ہو تو وہ ہاشمی نہیں کہ شرع میں نسب باپ سے ہے، لہٰذا ایسے شخص کو زکاۃ دے سکتے ہیں اگر کوئی دوسرا مانع نہ ہو۔ 

    مسئلہ ۴۲: صدقہ نفل اور اوقاف کی آمدنی بنی ہاشم کو دے سکتے ہیں، خواہ وقف کرنے والے نے ان کی تعیین کی ہو یا نہیں۔ (3) (درمختار) 

    مسئلہ ۴۳: (۱۰) ذمّی کافر کو نہ زکاۃ دے سکتے ہیں، نہ کوئی صدقہ واجبہ جیسے نذر و کفّارہ و صدقہ فطر (4) اور حربی کو کسی قسم کا صدقہ دینا جائز نہیں نہ واجبہ نہ نفل، اگرچہ وہ دارالاسلام میں بادشاہِ اسلام سے امان لے کر آیا ہو۔ (5) (درمختار) ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے مگریہاں کے کفّار ذمّی نہیں، انھیں صدقات نفل مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا بھی ناجائز ہے۔ 

    فائدہ: جن لوگوں کو زکاۃ دینا ناجائز ہے انھیں اور بھی کوئی صدقہ واجبہ نذر و کفّارہ و فطرہ دینا جائز نہیں، سوا دفینہ اور معدن کے کہ ان کا خمس اپنے والدین و اولاد کو بھی دے سکتا ہے، بلکہ بعض صورت میں خود بھی صَرف کر سکتا ہے جس کا بیان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹،وغیرہ. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۱، وغیرہ.     

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۳۵۲. 

4۔۔۔۔۔۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے، صدقہ فطر ذمی فقراء کو دینا جائز ہے مگر مکروہ ہے۔ 

(''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الصوم، فصل في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۱۱). 

فتاویٰ عالمگیری میں ہے ،ذمی کافروں کو زکوۃ دینا بالاتفاق جائز نہیں اور نفلی صدقہ ان کو دینا جائز ہے۔ صدقہ فطر، نذر اور کفارات میں اختلاف ہے امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیھما فرماتے ہیں کہ جائز ہے مگر مسلمان فقراء کو دینا ہمیں زیادہ محبوب ہے۔ 

(''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸). 

انظر: ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في حوائج الأصلیۃ، ج۳، ص۳۵۳. 

و ''المبسوط''، کتاب الصوم، فصل في صدقۃ الفطر، ج۲، ص۱۲۳. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۵۳.
Flag Counter