نہیں جو اُس کی اور بال بچوں کی خورش کو کافی ہو سکے تو اُس کو زکاۃ دے سکتے ہیں۔ یوہیں اس کی مِلک میں کھیت ہیں جن کی کاشت کرتا ہے، مگر پیداوار اتنی نہیں جو سال بھر کی خورش کے لیے کافی ہو اُس کو زکاۃ دے سکتے ہیں، اگرچہ کھیت کی قیمت دو سو ۲۰۰ درم یا زائد ہو۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: جس کے پاس کھانے کے لیے غلّہ ہو جس کی قیمت دو سو ۲۰۰ درم ہو اور وہ غلّہ سال بھر کو کافی ہے، جب بھی اس کو زکاۃ دینا حلال ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: جاڑے (3) کے کپڑے جن کی گرمیوں میں حاجت نہیں پڑتی حاجت اصلیہ میں ہیں، وہ کپڑے اگرچہ بیش قیمت ہوں زکاۃ لے سکتا ہے، جس کے پاس رہنے کا مکان حاجت سے زیادہ ہو یعنی پورے مکان میں اس کی سکونت نہیں یہ شخص زکاۃ لے سکتا ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: عورت کو ماں باپ کے یہاں سے جو جہیز ملتا ہے اس کی مالک عورت ہی ہے، اس میں دو طرح کی چیزیں ہوتی ہیں ایک حاجت کی جیسے خانہ داری کے سامان، پہننے کے کپڑے، استعمال کے برتن اس قسم کی چیزیں کتنی ہی قیمت کی ہوں ان کی وجہ سے عورت غنی نہیں، دوسری وہ چیزیں جو حاجتِ اصلیہ سے زائد ہیں زینت کے لیے دی جاتی ہیں جیسے زیور اور حاجت کے علاوہ اسباب اور برتن اور آنے جانے کے بیش قیمت بھاری جوڑے، ان چیزوں کی قیمت اگر بقدر نصاب ہے عورت غنی ہے زکاۃ نہیں لے سکتی۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۷: موتی وغیرہ جواہر جس کے پاس ہوں اور تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان کی زکاۃ واجب نہیں، مگر جب نصاب کی قیمت کے ہوں تو زکاۃ لے نہیں سکتا۔ (6) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۳۸: جس کے مکان میں نصاب کی قیمت کا باغ ہو اور باغ کے اندر ضروریات مکان باورچی خانہ، غسل خانہ وغیرہ نہیں تو اسے زکاۃ لینا جائز نہیں۔ (7) (عالمگیری)