Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
929 - 1029
    اور نصاب سے مرادیہاں یہ ہے کہ اُس کی قیمت دو سو ۲۰۰ درم ہو، اگرچہ وہ خود اتنی نہ ہو کہ اُس پر زکاۃ واجب ہو مثلاً چھ تولے سونا جب دو سو ۲۰۰ درم قیمت کا ہو تو جس کے پاس ہے اگرچہ اُس پر زکاۃ واجب نہیں کہ سونے کی نصاب ساڑھے سات تولے ہے مگر اس شخص کو زکاۃ نہیں دے سکتے یا اس کے پاس تیس بکریاں یا بیس گائیں ہوں جن کی قیمت دو سو ۲۰۰ درم ہے اسے زکاۃ نہیں دے سکتا، اگرچہ اس پر زکاۃ واجب نہیں یا اُس کے پاس ضرورت کے سوا اسباب ہیں جو تجارت کے لیے بھی نہیں اور وہ دو سو ۲۰۰ درم کے ہیں تو اسے زکاۃ نہیں دے سکتے۔ (1) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۸: صحیح تندرست کو زکاۃ دے سکتے ہیں، اگرچہ کمانے پر قدرت رکھتا ہو مگر سوال کرنا اسے جائز نہیں۔ (2) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۲۹: (۷) جو شخص مالک نصاب ہے اُس کے غلام کو بھی زکاۃ نہیں دے سکتے، اگرچہ غلام اپاہج ہو اور اُس کا مولیٰ کھانے کو بھی نہیں دیتا یا اُس کا مالک غائب ہو، مگر مالکِ نصاب کے مکاتب کو اور اُس ماذون کودے سکتے ہیں جو خود اور اُس کا مال دَین میں مستغرق ہو۔ (۸) یوہیں غنی مرد کے نابالغ بچّے کو بھی نہیں دے سکتے اور غنی کی بالغ اولاد کو دے سکتے ہیں جب کہ فقیر ہوں۔ (3) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۳۰: غنی کی بی بی کو دے سکتے ہیں جب کہ مالکِ نصاب نہ ہو۔ یوہیں غنی کے باپ کو دے سکتے ہیں جبکہ فقیر ہے۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۱: جس عورت کا دَین مہر اس کے شوہر پر باقی ہے، اگرچہ وہ بقدر نصاب ہو اگرچہ شوہر مالدار ہو ادا کرنے پر قادر ہو اُسے زکاۃ دے سکتے ہیں۔ (5) (جوہرہ نیرہ) 

    مسئلہ ۳۲: جس بچہ کی ماں مالک نصاب ہے، اگرچہ اس کا باپ زندہ نہ ہو اُسے زکاۃ دے سکتے ہیں۔ (6) (درمختار) 

    مسئلہ ۳۳: جس کے پاس مکان یا دکان ہے جسے کرایہ پر اٹھاتا ہے اور اُس کی قیمت مثلاً تین ہزار ہو مگر کرایہ اتنا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ـ1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في حوائج الأصلیۃ، ج۳، ص۳۴۶. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹، وغیرہ. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص ۳۴۸. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۹. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ ومن لا یجوز، ص۱۶۷. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص ۳۴۹.
Flag Counter