سکتا ہے بلکہ بہتر ہے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۲۲: زنا کا بچہ جو اُس کے نطفہ سے ہو یا وہ بچہ کہ اُس کی منکوحہ سے زمانہ نکاح میں پیدا ہوا، مگر یہ کہہ چکا کہ میرا نہیں انھیں نہیں دے سکتا۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۳: بہو اور داماد اور سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ یا زوجہ کی اولاد یا شوہر کی اولاد کو دے سکتا ہے اور رشتہ داروں میں جس کا نفقہ اُس کے ذمہ واجب ہے، اُسے زکاۃ دے سکتا ہے جب کہ نفقہ میں محسوب نہ کرے۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۴: ماں باپ محتاج ہوں اورحیلہ کر کے زکاۃ دینا چاہتا ہے کہ یہ فقیر کو دے دے پھر فقیر انھیں دے یہ مکروہ ہے۔ (4) (ردالمحتار) یوہیں حیلہ کر کے اپنی اولاد کو دینا بھی مکروہ ہے۔
مسئلہ ۲۵: (۳) اپنے یا اپنی اصل یا اپنی فرع یا اپنے زوج یا اپنی زوجہ کے غلام یا مکاتب (5) یا مدبّر (6) یا ام ولد (7) یا اُس غلام کو جس کے کسی جُز کایہ مالک ہو، اگرچہ بعض حصہ آزاد ہو چکا ہو زکاۃ نہیں دے سکتا۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: (۴) عورت شوہر کو (۵) اور شوہر عورت کو زکاۃ نہیں دے سکتا، اگرچہ طلاق بائن بلکہ تین طلاقیں دے چکا ہو، جب تک عدّت میں ہے اور عدّت پوری ہوگئی تو اب دے سکتا ہے۔ (9) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۷: (۶) جو شخص مالک نصاب ہو (جبکہ وہ چیز حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو یعنی مکان، سامان خانہ داری، پہننے کے کپڑے، خادم، سواری کا جانور، ہتھیار،اہلِ علم کے لیے کتابیں جو اس کے کام میں ہوں کہ یہ سب حاجتِ اصلیہ سے ہیں اور وہ چیز ان کے علاوہ ہو، اگرچہ اس پر سال نہ گزرا ہو اگرچہ وہ مال نامی نہ ہو) ایسے کو زکاۃ دینا جائز نہیں۔