سے پہلے مطالبہ کا اختیار نہ ہوگا اگر مطالبہ کرے تو باطل و نامسموع ہوگا کہ سب شرطیں باطل ہیں اور قرض دینے والے کو ہر وقت مطالبہ کا اختیار ہے۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۷: مسافر یا اس مالکِ نصاب نے جس کا اپنا مال دوسرے پر دَین ہے، بوقتِ ضرورت مالِ زکاۃ بقدرِ ضرورت لیا پھر اپنا مال مِل گیا مثلاً مسافر گھر پہنچ گیا یا مالکِ نصاب کا دَین وصول ہوگیا، تو جو کچھ زکاۃ میں کا باقی ہے اب بھی اپنے صَرف میں لاسکتا ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: زکاۃ دینے والے کو اختیار ہے کہ ان ساتوں قسموں کو دے یا ان میں کسی ایک کو دیدے، خواہ ایک قسم کے چند اشخاص کو یا ایک کو اور مالِ زکاۃ اگر بقدرِ نصاب نہ ہو تو ایک کو دینا افضل ہے اور ایک شخص کو بقدرِ نصاب دے دینا مکروہ، مگر دے دیا تو ادا ہوگئی۔ ایک شخص کو بقدرِ نصاب دینا مکروہ اُس وقت ہے کہ وہ فقیر مدیُون نہ ہو اور مدیُون ہو تو اتنا دے دینا کہ دَین نکال کر کچھ نہ بچے یا نصاب سے کم بچے مکروہ نہیں۔ یوہیں اگر وہ فقیر بال بچوں والا ہے کہ اگرچہ نصاب یا زیادہ ہے، مگر اہل و عیال پر تقسیم کریں تو سب کو نصاب سے کم ملتا ہے تو اس صورت میں بھی حرج نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: زکاۃ ادا کرنے میں یہ ضرور ہے کہ جسے دیں مالک بنا دیں، اباحت کافی نہیں، لہٰذا مالِ زکاۃ مسجد میں صَرف کرنا یا اُس سے میّت کو کفن دینا یا میّت کا دَین ادا کرنا یا غلام آزاد کرنا، پُل، سرا، سقایہ ، سڑک بنوا دینا، نہر یا کوآں کھدوا دینا ان افعال میں خرچ کرنا یا کتاب وغیرہ کوئی چیز خرید کر وقف کر دینا ناکافی ہے۔ (4) (جوہرہ، تنویر، عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: فقیر پر دَین ہے اس کے کہنے سے مالِ زکاۃ سے وہ دَین ادا کیا گیا زکاۃ ادا ہوگئی اور اگر اُس کے حکم سے نہ ہو تو زکاۃ ادا نہ ہوئی اور اگر فقیر نے اجازت دی مگر ادا سے پہلے مر گیا ،تو یہ دَین اگر مالِ زکاۃ سے ادا کریں زکاۃ ادا نہ ہوگی۔ (5) (درمختار) ان چیزوں میں مالِ زکاۃ صَرف کرنے کا حیلہ ہم بیان کر چکے، اگر حیلہ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
مسئلہ ۲۱: (۱) اپنی اصل یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی وغیرہم جن کی اولاد میں یہ ہے (۲) اور اپنی اولاد بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی وغیرہم کو زکاۃ نہیں دے سکتا۔ یوہیں صدقہ فطر و نذر و کفّارہ بھی انھیں نہیں دے سکتا۔ رہا صدقہ نفل وہ دے