Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
926 - 1029
    مسئلہ ۱۳: غارم سے مُراد مدیُون ہے یعنی اس پر اتنا دَین ہو کہ اُسے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہ رہے، اگرچہ اس کا اَوروں پر باقی ہو مگر لینے پر قادر نہ ہو، مگر شرط یہ ہے کہ مدیُون ہاشمی نہ ہو۔ (1) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۱۴: فی سبیل اﷲ یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنا اس کی چند صورتیں ہیں، مثلاً کوئی شخص محتاج ہے کہ جہاد میں جانا چاہتا ہے، سواری اور زادِ راہ اُس کے پاس نہیں تو اُسے مالِ زکاۃ دے سکتے ہیں کہ یہ راہِ خدا میں دینا ہے اگرچہ وہ کمانے پر قادر ہو یا کوئی حج کو جانا چاہتا ہے اور اُس کے پاس مال نہیں اُس کو زکاۃ دے سکتے ہیں، مگر اسے حج کے لیے سوال کرنا جائز نہیں۔ 

یا طالب علم کہ علمِ دین پڑھتا یا پڑھنا چاہتا ہے، اسے دے سکتے ہیں کہ یہ بھی راہِ خدا میں دینا ہے بلکہ طالبعلم سوال کر کے بھی مالِ زکاۃ لے سکتا ہے، جب کہ اُس نے اپنے آپ کو اسی کام کے لیے فارغ کر رکھا ہو اگرچہ کسب پر قادر ہو۔ یوہیں ہر نیک بات میں زکاۃ صَرف کرنا فی سبیل اﷲ ہے، جب کہ بطور تملیک (2) ہو کہ بغیر تملیک زکاۃ ادا نہیں ہوسکتی۔ (3) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۱۵: بہت سے لوگ مالِ زکاۃ اسلامی مدارس میں بھیج دیتے ہیں ان کو چاہیے کہ متولّی مدرسہ کو اطلاع دیں کہ یہ مالِ زکاۃ ہے تاکہ متولّی اس مال کو جُدا رکھے اور مال میں نہ ملائے اور غریب طلبہ پر صَرف کرے، کسی کام کی اُجرت میں نہ دے ورنہ زکاۃ ادا نہ ہوگی۔ 

    مسئلہ ۱۶: ابن السّبیل یعنی مسافر جس کے پاس مال نہ رہا زکاۃ لے سکتا ہے، اگرچہ اُس کے گھر مال موجود ہو مگر اُسی قدر لے جس سے حاجت پوری ہو جائے، زیادہ کی اجازت نہیں۔ یوہیں اگر مالک نصاب کا مال کسی میعاد تک کے لیے دوسرے پر دَین ہے اور ہنوز میعاد پوری نہ ہوئی اور اب اُسے ضرورت ہے یا جس پر اُس کا آتا ہے وہ یہاں موجود نہیں یا موجود ہے مگر نادار ہے یا دَین سے منکر ہے، اگرچہ یہ ثبوت رکھتا ہوتو ان سب صورتوں میں بقدرِ ضرورت زکاۃ لے سکتا ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ قرض ملے تو قرض لے کر کام چلائے۔ (4) (عالمگیری، درمختار) اور اگر دَین معجل ہے یا میعاد پوری ہوگئی اور مدیُون غنی حاضر ہے اور اقرار بھی کرتا ہے تو زکاۃ نہیں لے سکتا ،کہ اُس سے لے کر اپنی ضرورت میں صَرف کر سکتا ہے لہٰذا حاجت مند نہ ہوا۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ قرض جسے عرف میں لوگ دستگرداں کہتے ہیں، شرعاً ہمیشہ معجل ہوتا ہے کہ جب چاہے اس کا مطالبہ کر سکتا ہے، اگرچہ ہزار عہد و پیمان و وثیقہ و تمسک کے ذریعہ سے اس میں میعاد مقرر کی ہو کہ اتنی مدت کے بعد دیا جائے گا، اگرچہ یہ لکھ دیا ہو کہ اُس میعاد
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۹، وغیرہ. 

2۔۔۔۔۔۔ یعنی جس کو دے، اسے مالک بنا دے۔ 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۹، وغیرہ. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸. 

و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۰.
Flag Counter