Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
925 - 1029
    مسئلہ ۶: عامل اگرچہ غنی ہو اپنے کام کی اُجرت لے سکتا ہے اور ہاشمی ہو تو اس کو مالِ زکاۃ میں سے دینا بھی ناجائز اور اُسے لینا بھی ناجائز ہاں اگر کسی اور مد سے دیں تو لینے میں بھی حرج نہیں۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۷: زکاۃ کا مال عامل کے پاس سے جاتا رہا تو اب اسے کچھ نہ ملے گا ،مگر دینے والوں کی زکاتیں ادا ہوگئیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۸: کوئی شخص اپنے مال کی زکاۃ خود لے کر بیت المال میں دے آیا تو اُس کا معاوضہ عامل نہیں پائے گا۔ (3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۹: وقت سے پہلے معاوضہ لے لیا یا قاضی نے دے دیا یہ جائز ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ پہلے نہ دیں اور اگرپہلے لے لیا اور وصول کیا ہوا مال ہلاک ہوگیا تو ظاہر یہ کہ واپس نہ لیں گے۔ (4) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۰: رقاب سے مراد مکاتب غلام کو دینا کہ اس مالِ زکاۃ سے بدلِ کتابت ادا کرے اور غلامی سے اپنی گردن رہا کرے۔ (5) (عامہ کتب) 

    مسئلہ ۱۱: غنی کے مکاتب کو بھی مالِ زکاۃ دے سکتے ہیں اگرچہ معلوم ہے کہ یہ غنی کا مکاتب ہے۔ مکاتب پورا بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز ہوگیا اور پھر بدستور غلام ہوگیا تو جو کچھ اُس نے مالِ زکاۃ لیا ہے، اس کو مولیٰ تصرف میں لا سکتا ہے اگرچہ غنی ہو۔ (6) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۱۲: مکاتب کو جو زکاۃ دی گئی وہ غلامی سے رہائی کے لیے ہے، مگر اب اسے اختیار ہے دیگر مصارف میں بھی خرچ کر سکتا ہے، اگر مکاتب کے پاس بقدرِ نصاب مال ہے اور بدلِ کتابت سے بھی زیادہ ہے، جب بھی زکاۃ دے سکتے ہیں مگر ہاشمی کے مکاتب کو زکاۃ نہیں دے سکتے۔ (7) (عالمگیری، ردالمحتار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸. 

2۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۴. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸. 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۶. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۷، وغیرہ .

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج۱، ص۱۸۸. 

و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۳۷.
Flag Counter