صدقات فقرا و مساکین کے لیے ہیں اور انکے لیے جو اس کام پر مقرر ہیں اور وہ جن کے قلوب کی تالیف مقصود ہے اور گردن چھڑانے میں اور تاوان والے کے لیے اور اﷲ (عزوجل) کی راہ میں اور مسافر کے لیے، یہ اﷲ (عزوجل) کی طرف سے مقرر کرنا ہے اور اﷲ (عزوجل) علم و حکمت والا ہے۔
حدیث ۱: سنن ابی داود میں زیاد بن حارث صدائی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''اﷲ تعالیٰ نے صدقات کو نبی یا کسی اور کے حکم پر نہیں رکھا بلکہ اُس نے خود اس کا حکم بیان فرمایا اور اُس کے آٹھ حصے کیے۔'' (2)
حدیث ۲: امام احمد و ابو داود و حاکم ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ''غنی کے لیے صدقہ حلال نہیں مگر پانچ شخص کے لیے:
(۱) اﷲ (عزوجل) کی راہ میں جہاد کرنے والا یا
(۲) صدقہ پر عامل یا
(۳) تاوان والے کے لیے یا
(۴) جس نے اپنے مال سے خرید لیا ہو یا
(۵) مسکین کو صدقہ دیا گیا اور اس مسکین نے اپنے پڑوسی مالدار کو ہدیہ کیا۔'' (3) اور احمد و بیہقی کی دوسری روایت میں مسافر کے لیے بھی جواز آیا ہے۔ (4)
حدیث ۳: بیہقی نے حضرت مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ فرمایا: ''صدقہ مفروضہ میں اولاد اور والد کا