مسئلہ ۳۱: عشری زمین عاریۃً دی تو عشر کاشتکار پر ہے مالک پر نہیں اور کافر کو عاریت دی تو مالک پر عشر ہے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۳۲: عشری زمین بٹائی پر دی تو عشر دونوں پر ہے اور خراجی زمین بٹائی پر دی تو خراج مالک پر ہے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: زمین جو زراعت کے لیے نقدی پر دی جاتی ہے، امام کے نزدیک اُس کا عشر زمیندار پر ہے اور صاحبین (3) کے نزدیک کاشتکار پر اور علامہ شامی نے یہ تحقیق فرمائی کہ حالت زمانہ کے اعتبار سے اب قول صاحبین پر عمل ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۴: گورنمنٹ کو جو مالگذاری دی جاتی ہے، اس سے خراج شرعی نہیں ادا ہوتا بلکہ وہ مالک کے ذمہ ہے اُس کا ادا کرنا ضروری اور خراج کا مصرف صرف لشکر اسلام نہیں، بلکہ تمام مصالح عامہ مسلمین ہیں جن میں تعمیر مسجد و خرچ مسجد و وظیفہ امام و مؤذن و تنخواہ مدرسینِ علمِ دین و خبر گیری طلبہ علمِ دین و خدمتِ علمائے اہلسنت حامیانِ دین جو وعظ کہتے ہیں اور علمِ دین کی تعلیم کرتے اور فتوے کے کام میں مشغول رہتے ہوں اور پُل و سرا بنانے میں بھی صرف کیا جا سکتا ہے۔ (5) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۳۵: عشر لینے سے پہلے غلّہ بیچ ڈالا تو مصدق کو اختیار ہے کہ عشر مشتری سے لے یا بائع سے اور اگر جتنی قیمت ہونی چاہیے اُس سے زیادہ پر بیچا تو مصدق کو اختیار ہے کہ غلّہ کا عشر لے یا ثمن کا عشر اور اگر کم قیمت پر بیچا اور اتنی کمی ہے کہ لوگ اتنے نقصان پر نہیں بیچتے تو غلّہ ہی کا عشر لے گا اور وہ غلّہ نہ رہا تو اُس کا عشر قرار دے کر بائع سے لیں یا اُس کی واجبی قیمت۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: انگور بیچ ڈالے تو ثمن کا عشر لے اور شیرہ کر کے بیچا تو اسکی قیمت کا عشر لے۔ (7) (عالمگیری)