حق نہیں۔'' (1)
حدیث ۴: طبرانی کبیر میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اے بنی ہاشم! تم اپنے نفس پر صبر کرو کہ صدقات آدمیوں کے دھوون ہیں۔'' (2)
حدیث ۵تا۷: امام احمد و مسلم مطلب بن ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: آلِ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے صدقہ جائز نہیں کہ یہ تو آدمیوں کے مَیل ہیں۔'' (3)
اور ابن سعد کی روایت امام حسن مجتبےٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر اور میری اہلِ بیت پر صدقہ حرام فرما دیا۔'' (4)
اور ترمذی و نسائی و حاکم کی روایت ابو رافع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں اور جس قوم کا آزاد کردہ غلام ہو، وہ انھیں میں سے ہے۔'' (5)
حدیث ۸: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ امام حسن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے صدقہ کا خرما لے کر منھ میں رکھ لیا۔ اس پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''چھی چھی کہ اُسے پھینک دیں، پھر فرمایا: کیا تمھیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔'' (6) طہمان وبہز بن حکیم و براء و زید بن ارقم و عمرو بن خارجہ و سلمان وعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ و میمون و کیسان و ہرمزو خارجہ بن عمرو و مغیرہ و انس وغیرہم رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے بھی روایتیں ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اہلِ بیت کے لیے صدقات ناجائز ہیں۔ (7)
مسئلہ ۱: زکاۃ کے مصارف سات ہیں:
(۱) فقیر