Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
923 - 1029
حق نہیں۔'' (1) 

    حدیث ۴: طبرانی کبیر میں ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اے بنی ہاشم! تم اپنے نفس پر صبر کرو کہ صدقات آدمیوں کے دھوون ہیں۔'' (2) 

    حدیث ۵تا۷: امام احمد و مسلم مطلب بن ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: آلِ محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے صدقہ جائز نہیں کہ یہ تو آدمیوں کے مَیل ہیں۔'' (3) 

    اور ابن سعد کی روایت امام حسن مجتبےٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر اور میری اہلِ بیت پر صدقہ حرام فرما دیا۔'' (4) 

    اور ترمذی و نسائی و حاکم کی روایت ابو رافع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں اور جس قوم کا آزاد کردہ غلام ہو، وہ انھیں میں سے ہے۔'' (5) 

    حدیث ۸: صحیحین میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ امام حسن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے صدقہ کا خرما لے کر منھ میں رکھ لیا۔ اس پر حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''چھی چھی کہ اُسے پھینک دیں، پھر فرمایا: کیا تمھیں نہیں معلوم کہ ہم صدقہ نہیں کھاتے۔'' (6) طہمان وبہز بن حکیم و براء و زید بن ارقم و عمرو بن خارجہ و سلمان وعبدالرحمن بن ابی لیلیٰ و میمون و کیسان و ہرمزو خارجہ بن عمرو و مغیرہ و انس وغیرہم رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے بھی روایتیں ہیں کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی اہلِ بیت کے لیے صدقات ناجائز ہیں۔ (7) 

    مسئلہ ۱: زکاۃ کے مصارف سات ہیں: 

    (۱) فقیر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''السنن الکبری''، کتاب قسم الصدقات باب المراۃ تصیرف من زکاتھا في زوجھا، الحدیث: ۱۳۲۲۹، ج۷، ص۴۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الکبیر''، الحدیث: ۱۲۹۸۰، ج۱۲، ص۱۸۲. 

3۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب ترک استعمال آل النبی علی الصدقۃ، الحدیث: ۱۰۷۲، ص۵۳۹. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الطبقات الکبری''لابن سعد، ج۱،ص۲۹۷ 

5۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزکاۃ، باب ماجاء في کراہیۃ الصدقۃ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم وأھل بیتہٖ وموالیہ، 

الحدیث: ۶۵۷، ج۲، ص۱۴۲. 

6۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب مایذکر في الصدقۃ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ، الحدیث: ۱۴۹۱، ج۱، ص۵۰۳. 

7۔۔۔۔۔۔ انظر: ''کنز العمال''، کتاب الزکاۃ، ج۶، ص۱۹۵ ۔ ۱۹۶.
Flag Counter