مسئلہ ۲۵: بادشاہِ اسلام کو اختیار ہے کہ خراج لینے کے لیے غلّہ کو روک لے مالک کو تصرف نہ کرنے دے اور اس نے کئی سال کا خراج نہ دیا ہو اور عاجز ہو تو اگلی برسوں کا معاف ہے اور عاجز نہ ہو تو لیں گے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: زراعت پر قادر ہے اور بویا نہیں تو خراج واجب ہے اور عشر جب تک کاشت نہ کرے اور پیداوار نہ ہو واجب نہیں۔ (2) (درمختار )
مسئلہ ۲۷: کھیت بویا مگر پیداوار ماری گئی مثلاً کھیتی ڈوب گئی یا جل گئی یا ٹیری کھا گئی یا پالے اور لُو سے جاتی رہی تو عشر و خراج دونوں ساقط ہیں، جب کہ کُل جاتی رہی اور اگر کچھ باقی ہے تو اس باقی کا عشر لیں گے اور اگر چوپائے کھا گئے تو ساقط نہیں اور ساقط ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ اس کے بعداس سال کے اندراس میں دوسری زراعت طیار نہ ہو سکے اور یہ بھی شرط ہے کہ توڑنے یا کاٹنے سے پہلے ہلاک ہو ورنہ ساقط نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: خراجی زمین کسی نے غصب کی اور غصب سے انکار کرتا ہے اور مالک کے پاس گواہ بھی نہیں، تو اگر کاشت کرے خراج غاصب پر ہوگا۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: بیع وفا یعنی جس بیع میں یہ شرط ہو کہ بائع جب ثمن مشتری کو واپس دے گا تو مشتری مبیع پھیر دے گا تو جب خراجی زمین اس طور پر کسی کے ہاتھ بیچے اور بائع کے قبضہ میں زمین ہے تو خراج بائع پر اور مشتری کے قبضہ میں ہو اور مشتری نے بویا بھی تو خراج مشتری پر۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: طیار ہونے سے پیشتر زراعت بیچ ڈالی تو عشر مشتری پر ہے، اگرچہ مشتری نے یہ شرط لگائی کہ پکنے تک زراعت کاٹی نہ جائے بلکہ کھیت میں رہے اور بیچنے کے وقت زراعت طیار تھی تو عشر بائع پر ہے اور اگر زمین و زراعت دونوں یا صرف زمین بیچی اور اس صورت میں سال پورا ہونے میں اتنا زمانہ باقی ہے کہ زراعت ہو سکے، تو خراج مشتری پر ہے ورنہ بائع پر۔ (6) (درمختار، ردالمحتار)