نہ ہو۔ یوہیں خراج مقاسمہ میں نصف سے زیادت نہ ہو اور یہ بھی شرط ہے کہ زمین اُتنے دینے کی طاقت بھی رکھتی ہو۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: اگر معلوم نہ ہو کہ سلطنتِ اسلام میں کیا مقرر تھا تو جہاں جہاں فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مقرر فرمادیا ہے، وہ دیں اور جہاں مقرر نہ فرمایا ہو نصف دیں۔ (2) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۴: فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ مقرر فرمایا تھا کہ ہر قسم کے غلّہ میں فی جریب ایک درم اور اُس غلّہ کا ایک صاع اور خربوزے، تربوز کی پالیز اور کھیرے، ککڑی، بیگن وغیرہ ترکاریوں میں فی جریب پانچ درم انگور و خرما کے گھنے باغوں میں جن کے اندر زراعت نہ ہو سکے۔ دس درم پھر زمین کی حیثیت اور اس شخص کی قدرت کا اعتبار ہے، اس کا اعتبار نہیں کہ اُس نے کیا بویا یعنی جو زمین جس چیز کے بونے کے لائق ہے اور یہ شخص اُس کے بونے پر قادر ہے تو اس کے اعتبار سے خراج ادا کرے، مثلاً انگور بو سکتا ہے تو انگور کا خراج دے، اگرچہ گیہوں بوئے اور گیہوں کے قابل ہے تو اس کا خراج ادا کرے اگرچہ جَو بوئے۔ جریب کی مقدار انگریزی گز سے ۳۵ گز طول، ۳۵ گز عرض ہے اور صاع دو سو اٹھاسی ۲۸۸ روپیہ بھر اور دس درم کے ۹ ــــ ۳ ۵ پائی پانچ درم ۶ عہ / ۴ ــــ ۴ ۵ پائی اور ایک درم ۴ / ۵ ـــــ ۱۹ ۲۵ پائی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۵: جہاں اسلامی سلطنت نہ ہو، وہاں کے لوگ بطورِ خود فقرا وغیرہ جو مصارفِ خراج ہیں، اُن پر صرف کریں۔
مسئلہ ۶: عشری زمین سے ایسی چیز پیدا ہوئی جس کی زراعت سے مقصود زمین سے منافع حاصل کرنا ہے تو اُس پیداوار کی زکاۃ فرض ہے اور اس زکاۃ کا نام عشر ہے یعنی دسواں حصہ کہ اکثر صورتوں میں دسواں حصہ فرض ہے، اگرچہ بعض صورتوں میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ لیا جائے گا۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: عشر واجب ہونے کے لیے عاقل، بالغ ہونا شرط نہیں، مجنون اور نابالغ کی زمین میں جو کچھ پیدا ہوا اس میں بھی عشر واجب ہے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۸: خوشی سے عشر نہ دے تو بادشاہِ اسلام جبراً لے سکتا ہے اور اس صورت میں بھی عشر ادا ہو جائے گا، مگر ثواب کا