Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
917 - 1029
مستحق نہیں اور خوشی سے ادا کرے تو ثواب کا مستحق ہے۔ (1) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۹: جس پر عشر واجب ہوا، اُس کا انتقال ہوگیا اور پیداوار موجود ہے تو اس میں سے عشر لیا جائے گا۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۰: عشر میں سال گزرنا بھی شرط نہیں، بلکہ سال میں چند بار ایک کھیت میں زراعت ہوئی تو ہر بار عشر واجب ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۱: اس میں نصاب بھی شرط نہیں، ایک صاع بھی پیداوار ہو تو عشر واجب ہے اور یہ شرط بھی نہیں کہ وہ چیز باقی رہنے والی ہو اور یہ شرط بھی نہیں کہ کاشتکار زمین کا مالک ہو یہاں تک کہ مکاتب و ماذون نے کاشت کی تو اس پیداوار پر بھی عشر واجب ہے، بلکہ وقفی زمین میں زراعت ہوئی تو اس پر بھی عشر واجب ہے، خواہ زراعت کرنے والے اہلِ وقف ہوں یا اُجرت پر کاشت کی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۲: جو چیزیں ایسی ہوں کہ اُن کی پیداوار سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود نہ ہو اُن میں عشر نہیں، جیسے ایندھن، گھاس، نرکل، سنیٹھا، جھاؤ، کھجور کے پتّے، خطمی، کپاس، بیگن کا درخت، خربزہ، تربز، کھیرا، ککڑی کے بیج۔ یوہیں ہر قسم کی ترکاریوں کے بیج کہ اُن کی کھیتی سے ترکاریاں مقصود ہوتی ہیں، بیج مقصود نہیں ہوتے۔ یوہیں جو بیج دوا ہیں مثلاً کندر، میتھی، کلونجی اوراگر نرکل، گھاس، بید، جھاؤ وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لیے خالی چھوڑ دی تو اُن میں بھی عشر واجب ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما) 

    مسئلہ ۱۳: جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عُشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چرسے (6) یا ڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب السادس في زکاۃ الزرع والثمار، ج۱، ص۱۸۵.وغیرہ. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۳. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العشر، ج۳، ص۳۱۵، وغیرہما. 

6۔۔۔۔۔۔ یعنی چمڑے کا بڑا ڈول۔
Flag Counter