(۱) عشری۔ (۲) خراجی۔ (۳) نہ عشری، نہ خراجی۔
اوّل و سوم دونوں کا حکم ایک ہے یعنی عشر دینا۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی زمینیں خراجی نہ سمجھی جائیں گی، جب تک کسی خاص زمین کی نسبت خراجی ہونا دلیل شرعی سے ثابت نہ ہو لے۔ عشری ہونے کی بہت سی صورتیں ہیں مثلاً مسلمانوں نے فتح کیا اور زمین مجاہدین پر تقسیم ہوگئی یا وہاں کے لوگ خودبخود مسلمان ہوگئے، جنگ کی نوبت نہ آئی یا عشری زمین کے قریب پڑتی تھی، اسے کاشت میں لایا یا اُس پڑتی کو کھیت بنایا جو عشری و خراجی دونوں سے قرب و بعد کی یکساں نسبت رکھتی ہے یا اس کھیت کو عشری پانی سے سیراب کیا یا خراجی و عشری دونوں سے یا مسلمان نے اپنے مکان کو باغ یا کھیت بنا لیا اور اسے عشری پانی سے سیراب کرتا ہے ۔یا عشری و خراجی دونوں سے یا عشری زمین کافر ذمّی نے خریدی، مسلمان نے شفعہ میں اُسے لے لیا یا بیع فاسد ہوگئی یا خیار شرط یا خیار رویت کی وجہ سے واپس ہوئی یا خیار عیب (1) کی وجہ سے قاضی کے حکم سے واپس ہوئی ۔
اور بہت صورتوں میں خراجی ہے مثلاً فتح کر کے وہیں والوں کو احسان کے طور پر واپس دی یا دوسرے کافروں کو دے دی یا وہ ملک صلح کے طور پر فتح کیا گیا یا ذمّی نے مسلمان سے عشری زمین خرید لی یا خراجی زمین مسلمان نے خریدی یا ذمّی نے بادشاہِ اسلام کے حکم سے بنجرکو آباد کیا یا بنجر زمین ذمّی کو دے دی گئی یا اسے مسلمان نے آباد کیا اور وہ خراجی زمین کے پاس تھی یا اسے خراجی پانی سے سیراب کیا۔ خراجی زمین اگرچہ عشری پانی سے سیراب کی جائے، خراجی ہی رہے گی
اور خراجی و عشری دونوں نہ ہوں، مثلاً مسلمانوں نے فتح کر کے اپنے لیے قیامت تک کے لیے باقی رکھی یا اس زمین کے مالک مر گئے اور زمین بیت المال کی مِلک ہوگئی۔
مسئلہ ۱: خراج دو قسم ہے:
(۱) خراج مقاسمہ کہ پیداوار کا کوئی حصہ آدھا یا تہائی یا چوتھائی وغیرہا مقرر ہو، جیسے حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہودِ خیبر پر مقرر فرمایا تھا۔ اور
(۲) خراج مؤظف کہ ایک مقدار معیّن لازم کر دی جائے خواہ روپے، مثلاً سالانہ دو روپے بیگھہ یا کچھ اور جیسے فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مقرر فرمایا تھا۔
مسئلہ ۲: اگر معلوم ہو کہ سلطنت اسلامیہ میں ا تنا خراج مقرر تھا تووہی دیں، بشرطیکہ خراج مؤظف میں جہاں جہاں فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مقدار منقول ہے، اس پر زیادت نہ ہو اور جہاں منقول نہیں اس میں نصف پیداوار سے زیادہ