Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
914 - 1029
بیع صحیح ہے، مگر خریدار کے لیے بھی خبیث ہے اور اگر امان لے کر نہیں گیا تھا تو یہ مال اس کے لیے حلال ہے، نہ واپس کرے نہ اس میں خمس لیا جائے۔ (1) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۱۲: خمس مساکین کا حق ہے کہ بادشاہِ اسلام اُن پر صرف کرے اور اگر اُس نے بطور خود مساکین کو دے دیا جب بھی جائز ہے، بادشاہِ اسلام کو خبر پہنچے تو اُسے برقرار رکھے اور اُس کے تصرف کو نافذ کر دے اور اگر یہ خود مسکین ہے تو بقدرِ حاجت اپنے صرف میں لا سکتا ہے اور اگر خمس نکالنے کے بعد باقی دو سو درم کی قدر ہے تو خُمس اپنے صرف میں نہیں لا سکتا کہ اب یہ فقیرنہیں ہاں اگر مدیُون ہو کہ دَین نکالنے کے بعد دو سو درم کی قدر باقی نہیں رہتا تو خُمس اپنے صرف میں لا سکتا ہے اور اگر ماں باپ یا اولاد جو مساکین ہیں، اُن کو خُمس دیدے تو یہ بھی جائز ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
زراعت اور پھلوں کی زکاۃ
    اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
 (وَاٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ ۫ۖ) (3)
کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو۔

    حدیث ۱: صحیح بخاری شریف میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس زمین کو آسمان یا چشموں نے سیراب کیا یا عشری ہو یعنی نہر کے پانی سے اسے سیراب کرتے ہوں، اُس میں عشر ہے اور جس زمین کے سیراب کرنے کے لیے جانور پر پانی لاد کر لاتے ہوں، اُس میں نصف عشر (4) یعنی بیسواں حصہ۔'' 

    حدیث ۲: ابن نجار انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ ''ہر اُس شے میں جسے زمین نے نکالا، عشر یا نصف عشر ہے۔'' (5)
مسائل فقہیہ
    زمین تین قسم ہے:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب الرکاز، ج۳، ص۳۰۹. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب الرکاز، ج۳، ص۳۱۱. 

3۔۔۔۔۔۔ پ۸، الانعام: ۱۴۱.

4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب في العشر فیما من ماء السماء... الخ، الحدیث: ۱۴۸۳، ج۱، ص۵۰۱. 

5۔۔۔۔۔۔ ''کنزالعمال''، کتاب الزکاۃ، زکاۃ النبات والفواکہ، الحدیث: ۱۵۸۷۳، ج۶، ص۱۴۰.
Flag Counter