مسئلہ ۶: جس دفینہ (1) میں اسلامی نشائی پائی جائے خواہ وہ نقد ہو یا ہتھیار یا خانہ داری کے سامان وغیرہ، وہ پڑے مال کے حکم میں ہے یعنی مسجدوں، بازاروں میں اس کا اعلان اتنے دنوں تک کرے کہ ظن غالب ہو جائے، اب اس کا تلاش کرنے والا نہ ملے گا پھرمساکین کو دے دے اور خود فقیر ہو تو اپنے صرف میں لائے اور اگر اس میں کفر کی علامت ہو، مثلاً بُت کی تصویر ہو یا کافر بادشاہ کا نام اس پر لکھا ہو، اُس میں سے خمس لیا جائے، باقی پانے والے کو دیا جائے، خواہ اپنی زمین میں پائے یا دوسرے کی زمین میں یا مباح زمین میں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: حربی کافر نے دفینہ نکالا تو اُسے کچھ نہ دیا جائے اور جو اُس نے لے لیا ہے واپس لیا جائے، ہاں اگر بادشاہ ِ اسلام کے حکم سے کھو د کر نکالا تو جو ٹھہرا ہے وہ دیں گے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: دفینہ نکالنے میں دو شخصوں نے کام کیا تو خمس کے بعد باقی اُسے دیں گے جس نے پایا، اگرچہ دونوں نے شرکت کے ساتھ کام کیا ہے کہ یہ شر کت فاسدہ ہے اور اگر شرکت کی صورت میں دونوں نے پایا اور یہ نہیں معلوم کہ کتنا کس نے پایا تو نصف نصف کے شریک ہیں اور اس صورت میں اگر ایک نے پایا اور دوسرے نے مدد کی تو وہ پانے والے کا ہے اور مددگار کو کام کی مزدوری دی جائے گی اور اگر دفینہ نکالنے پر مزدور رکھا تو جو برآمد ہوگا مزدور کو ملے گا، مستاجر کو کچھ نہیں کہ یہ اجارہ فاسد (4) ہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: دفینہ میں نہ اسلامی علامت ہے، نہ کفر کی تو زمانہ کفر کا قرار دیا جائے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: صحرائے دارالحرب میں سے جوکچھ نکلا معدنی ہو یا دفینہ اُس میں خمس نہیں، بلکہ کُل پانے والے کو ملے گا اور اگربہت سے لوگ بطور غلبہ کے نکال لائے تو اس میں خمس لیا جائے گاکہ یہ غنیمت ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: مسلمان دارالحرب میں امن لے کر گیا اور وہاں کسی کی مملوک زمین سے خزانہ یا کان نکالی تو مالکِ زمین کوواپس دے اور اگر واپس نہ کیا بلکہ دارالاسلام میں لے آیا تو یہی مالک ہے مگر مِلک خبیث ہے، لہٰذا تصدق کرے اور بیچ ڈالا تو