صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''رکاز (کان) میں خمس ہے۔'' (2)
مسئلہ ۱: کان سے لوہا، سیسہ، تانبا، پیتل، سونا چاندی نکلے، اس میں خمس (پانچواں حصہ) لیا جائے گا اور باقی پانے والے کا ہے۔ خواہ وہ پانے والا آزاد ہو یا غلام، مسلمان ہو یا ذِمّی، مرد ہو یا عورت، بالغ ہو یا نابالغ، وہ زمین جس سے یہ چیزیں نکلیں عشری ہو یا خراجی۔ (3) (عالمگیری) یہ اُس صورت میں ہے کہ زمین کسی شخص کی مملوک نہ ہو، مثلاً جنگل ہو یا پہاڑ اور اگر مملوک ہے تو کُل مالکِ زمین کو دیا جائے خمس بھی نہ لیا جائے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۲: فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر جواہر اور سرمہ، پھٹکری، چونا، موتی میں اور نمک وغیرہ بہنے والی چیزوں میں خمس نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: مکان یا دکان میں کان نکلی تو خمس نہ لیا جائے، بلکہ کُل مالک کو دیا جائے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۴: فیروزہ، یاقوت، زمّرد وغیرہ جواہر سلطنت اسلام سے پیشتر کے دفن تھے اور اب نکلے تو خمس لیا جائے گا یہ مالِ غنیمت ہے۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۵: موتی اور اس کے علاوہ جو کچھ دریا سے نکلے، اگرچہ سونا کہ پانی کی تہ میں تھا،سب پانے والے کا ہے بشرطیکہ اس میں کوئی اسلامی نشانی نہ ہو۔ (8) (درمختار)