مسئلہ ۷: مسلمان سے چالیسواں حصہ لیا جائے اور ذمّی سے بیسواں اور حربی سے دسواں حصہ۔ (1) (تنویر) حربی سے دسواں حصہ لینا اس وقت ہے جب معلوم نہ ہو کہ حربیوں نے مسلمانوں سے کتنا لیا تھا اور اگر معلوم ہو تو جتنا انہوں نے لیا مسلمان بھی حربیوں سے اتنا ہی لیں، مگر حربیوں نے اگر مسلمانوں کا کُل مال لے لیا ہو تو مسلمان کُل نہ لیں، بلکہ اتنا چھوڑ دیں کہ اپنے ٹھکانے پہنچ جائے اور اگر حربیوں نے مسلمانوں سے کچھ نہ لیا تو مسلمان بھی کچھ نہ لیں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: حربی بچے اور مکاتب سے کچھ نہ لیں گے، مگر جب مسلمانوں کے بچوں اورمکاتب سے حربیوں نے لیا ہو تو مسلمان بھی اُن سے لیں۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۹: ایک بار جب حربی سے لے لیا تو دو بارہ اس سال میں نہ لیں، مگر جب لینے کے بعد دارالحرب کو واپس گیا اور اب پھر دارلحرب سے آیا تو دوبارہ لیں گے۔ (4) (تنویر الابصار)
مسئلہ ۱۰: حربی دارالاسلام میں آیا اور واپس گیا مگر عاشر کو خبر نہ ہوئی پھر دوبارہ دارالحرب سے آیا تو پہلی مرتبہ کا نہ لیں اور اگر مسلمان یا ذمّی کے آنے اور جانے کی خبر نہ ہوئی اور اب دوبارہ آیا تو پہلی بار کا لیں گے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: ماذُون (6) کے ساتھ اگر اس کا مالک بھی ہے اور اس پر اتنا دَین نہیں، جو ذات و مال کو مستغرق (7) ہو تو عاشر اس سے لے گا۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: عاشِر کے پاس ایسی چیز لے کر گزرا جو جلد خراب ہونے والی ہے، جیسے میوہ، ترکاری، خربزہ، تربز، دودھ وغیرہا، اگرچہ اُن کی قیمت نصاب کی قدر ہو مگر عشر نہ لیا جائے، ہاں اگر وہاں فقرا موجود ہوں تو لے کر فقرا کو بانٹ دے۔ (9) (عالمگیری، درمختار)