Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
910 - 1029
کا حصہ نصاب کو پہنچ جائے یا اپنے کو مزدور یا مکاتب یا ماذون بتائے یا اتنا ہی کہے کہ اس مال پر زکاۃ نہیں، اگرچہ وجہ نہ بتائے یا کہے مجھ پر دَین ہے جو مال کے برابر ہے یا اتنا ہے کہ اُسے نکالیں تو نصاب باقی نہ رہے یا کہے دوسرے عاشِر کو دے دیا ہے اور جس کو دینا بتاتا ہے واقع میں وہ عاشِر ہے اور اس عاشِر کو بھی اس کا عاشِر ہونا معلوم ہو یا کہے شہر میں فقیروں کو زکاۃ دے دی اور اپنے بیان پر حلف کرے تو اُس کا قول مان لیا جائے گا، اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ اس سے رسید طلب کریں کہ رسید کبھی جعلی ہوتی ہے اور کبھی غلطی سے رسید نہیں لی جاتی اور کبھی گُم ہو جاتی ہے اور اگر رسید پیش کی اور اس میں اس عاشِر کا نام نہیں جسے اُس نے بتایا، جب بھی حلف لے کر اُس کا قول مان لیں گے اور اگر چندسال گزرنے پر معلوم ہوا کہ اُس نے جھوٹ کہا تھا تو اب اُس سے زکاۃ لی جائے گی۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳: اگر اس مال پر سال نہیں گزرا مگراس کے مکان پر جو مال ہے اس پر سال گزر گیا ہے اور اس مال کو اس مال کے ساتھ ملا سکتے ہوں تو اس کا قول نہیں مانا جائے گا۔ یوہیں اگر ایسے عاشِر کو دینا بتائے جو اُسے معلوم نہیں یا کہے کسی بد مذہب کو زکاۃ دے دی یاکہے شہر میں فقیر کو نہیں دی بلکہ شہر سے باہر جا کر دی تو ان سب صورتوں میں اس کا قول نہ مانا جائے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۴: سائمہ اور اموالِ باطنہ میں اس کا قول نہیں مانا جائے گا اور جن امور میں مسلمان کا قول ماناجاتا ہے، ذمی کافر کا بھی مان لیا جائے گا، مگر اس صورت میں کہ شہر میں فقیر کو دینا بتائے تو اس کا قول معتبر نہیں۔ (3) (درمختار) 

    مسئلہ ۵: حربی کافر کا قول بالکل معتبر نہیں، اگرچہ جو کچھ کہتا ہے اُس پر گواہ پیش کرے اور اگر کنیز کو ام ولد بتائے یا غلام کو اپنا لڑکا کہے اور اس کی عمر اس قابل ہو کہ یہ اس کا لڑکا ہوسکتا ہے یاکہے میں نے دوسرے کو دے دیا ہے اور جسے بتاتا ہے وہ وہاں موجود ہے تو ان امور میں حربی کا بھی قول مان لیا جائے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۶: جو شخص دو سو درم سے کم کا مال لے کر گزرا تو عاشر اُس سے کچھ نہ لے گا، خواہ وہ مسلمان ہو یا ذمّی یا حربی، خواہ اُس کے گھر میں اور مال ہونا معلوم ہو یا نہیں۔ (5) (عالمگیری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الرابع فیمن یمر علی العاشر، ج۱، ص۱۸۳. 

و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، مطلب: لاتسقط الزکاۃ... إلخ، ج۳، ص۲۸۹ ۔ ۲۹۱. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، مطلب: لاتسقط الزکاۃ... إلخ، ج۳، ص۲۹۰. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۹۱. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۹۳. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الرابع فیمن یمر علی العاشر، ج۱، ص۱۸۳.
Flag Counter