میں اگر اس قیمت کی کنیز کرایہ میں دی تو کرایہ دار پر کچھ واجب نہیں اور مالکِ مکان پر اُسی طرح وجوب ہے، جو درم کی صورت میں ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: تجارت کے لیے غلام قیمتی دو سو درم کا دو سو میں خریدا اور ثمن بائع کو دے دیا، مگر غلام پر قبضہ نہ کیا یہاں تک کہ ایک سال گزر گیا، اب وہ بائع کے یہاں مر گیا تو بائع و مشتری دونوں پر دو دو سو کی زکاۃ واجب ہے اور اگر غلام دو سو درم سے کم قیمت کا تھا اور مشتری نے دو سو پر لیا تو بائع دو سو کی زکاۃ دے اور مشتری پر کچھ نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: خدمت کا غلام ہزار روپے میں بیچا اور ثمن پر قبضہ کر لیا، سال بھر بعد وہ غلام عیب دار نکلا اس بنا پر واپس ہوا، قاضی نے واپسی کا حکم دیا ہو یا اُس نے خود اپنی خوشی سے واپس لے لیا ہو تو ہزار کی زکاۃ دے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: روپے کے عوض کھانا غلّہ کپڑا وغیرہ فقیر کو دے کر مالک کر دیا تو زکاۃ ادا ہو جائے گی، مگر اس چیز کی قیمت جو بازار بھاؤ سے ہوگی وہ زکاۃ میں سمجھی جائے، بالائی مصارف مثلاً بازار سے لانے میں جو مزدور کو دیا ہے یا گاؤں سے منگوایا تو کرایہ اور چونگی وضع نہ کریں گے یا پکوا کر دیا تو پکوائی یا لکڑیوں کی قیمت مُجرا نہ کریں، بلکہ اس پکی ہوئی چیز کی جو قیمت بازار میں ہو، اس کا اعتبار ہے۔ (4) (درمختار، عالمگیری)