Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
909 - 1029
میں اگر اس قیمت کی کنیز کرایہ میں دی تو کرایہ دار پر کچھ واجب نہیں اور مالکِ مکان پر اُسی طرح وجوب ہے، جو درم کی صورت میں ہے۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۳: تجارت کے لیے غلام قیمتی دو سو درم کا دو سو میں خریدا اور ثمن بائع کو دے دیا، مگر غلام پر قبضہ نہ کیا یہاں تک کہ ایک سال گزر گیا، اب وہ بائع کے یہاں مر گیا تو بائع و مشتری دونوں پر دو دو سو کی زکاۃ واجب ہے اور اگر غلام دو سو درم سے کم قیمت کا تھا اور مشتری نے دو سو پر لیا تو بائع دو سو کی زکاۃ دے اور مشتری پر کچھ نہیں۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۴: خدمت کا غلام ہزار روپے میں بیچا اور ثمن پر قبضہ کر لیا، سال بھر بعد وہ غلام عیب دار نکلا اس بنا پر واپس ہوا، قاضی نے واپسی کا حکم دیا ہو یا اُس نے خود اپنی خوشی سے واپس لے لیا ہو تو ہزار کی زکاۃ دے۔ (3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۵: روپے کے عوض کھانا غلّہ کپڑا وغیرہ فقیر کو دے کر مالک کر دیا تو زکاۃ ادا ہو جائے گی، مگر اس چیز کی قیمت جو بازار بھاؤ سے ہوگی وہ زکاۃ میں سمجھی جائے، بالائی مصارف مثلاً بازار سے لانے میں جو مزدور کو دیا ہے یا گاؤں سے منگوایا تو کرایہ اور چونگی وضع نہ کریں گے یا پکوا کر دیا تو پکوائی یا لکڑیوں کی قیمت مُجرا نہ کریں، بلکہ اس پکی ہوئی چیز کی جو قیمت بازار میں ہو، اس کا اعتبار ہے۔ (4) (درمختار، عالمگیری)
عاشر کا بیان
    مسئلہ ۱: عاشِر اُس کوکہتے ہیں جسے بادشاہِ اسلام نے راستہ پر مقرر کر دیا ہو کہ تجار (5) جو اموال لے کر گزریں، اُن سے صدقات وصول کرے۔ عاشر کے لیے شرط یہ ہے کہ مسلمان حُر (6) غیر ہاشمی ہو، چور اور ڈاکوؤں سے مال کی حفاظت پر قادر ہو۔ (7) (بحر) 

    مسئلہ ۲: جو راہ گیر یہ کہے کہ میرے اس مال پر نیز گھر میں جو موجود ہے کسی پر سال نہیں گزرا یا کہتا ہے کہ میں نے اس میں تجارت کی نیّت نہیں کی یا کہے یہ میرا مال نہیں بلکہ میرے پاس امانت یا بطور مضاربت ہے، بشرطیکہ اس میں اتنا نفع نہ ہو کہ اس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، في مسائل شتی، ج۱، ص۱۸۱ ۔ ۱۸۲. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۱۸۲. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۱۸۰، ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۳، ص۲۰۴. 

5۔۔۔۔۔۔ یعنی تجارت کرنے والے۔     6۔۔۔۔۔۔ یعنی جو غلام نہ ہو۔ 

7۔۔۔۔۔۔ ''البحر الرائق''، کتاب الزکاۃ، باب العاشر، ج۲، ص۴۰۲.
Flag Counter