Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
906 - 1029
لیے کرایہ پر دے دیا ،یہ کرایہ اگر اُس پر دَین ہے تو دَین قوی ہوگا اور دَین قوی کی زکاۃ بحالتِ دَین ہی سال بہ سال واجب ہوتی رہے گی، مگر واجب الادا اُس وقت ہے جب پانچواں حصہ نصاب کا وصول ہو جائے، مگر جتنا وصول ہوا اتنے ہی کی واجب الادا ہے یعنی چالیس درم وصول ہونے سے ایک درم دینا واجب ہوگا اور اسّی ۸۰ وصول ہوئے تو دو،وعلیٰ ہذا القیاس۔ دوسرے دَین متوسط کہ کسی مالِ غیر تجارتی کا بدل ہو مثلاً گھر کا غلّہ یا سواری کا گھوڑا یا خدمت کا غلام یا اور کوئی شے حاجت اصلیہ کی بیچ ڈالی اور دام خریدار پر باقی ہیں اس صورت میں زکاۃ دینا اس وقت لازم آئے گا کہ دو سو درم پر قبضہ ہو جائے۔ یو ہیں اگر مُورث کا دَین اُسے ترکہ میں ملا اگرچہ مالِ تجارت کا عوض ہو، مگر وارث کو دو سو درم وصول ہونے اور مُورث کی موت کو سال گزرنے پر زکاۃ دینا لازم آئے گا۔ تیسرے دَین ضعیف جو غیر مال کا بدل ہو جیسے مہر، بدل خلع، دیت، بدلِ کتابت یا مکان یا دوکان کہ بہ نیتِ تجارت خریدی نہ تھی اس کا کرایہ کرایہ دار پر چڑھا، اس میں زکاۃ دینا اس وقت واجب ہے کہ نصاب پر قبضہ کرنے کے بعد سال گزر جائے یا اس کے پاس کوئی نصاب اس جنس کی ہے اور اس کا سال تمام ہو جائے تو زکاۃ واجب ہے۔ 

    پھر اگر دَین قوی یا متوسط کئی سال کے بعد وصول ہو تو اگلے سال کی زکاۃ جو اس کے ذمہ دَین ہوتی رہی وہ پچھلے سال کے حساب میں اسی رقم پر ڈالی جائے گی، مثلاً عمرو پر زید کے تین سو درم دَین قوی تھے، پانچ برس بعد چالیس درم سے کم وصول ہوئے تو کچھ نہیں اور چالیس وصول ہوئے تو ایک درم دینا واجب ہوا، اب انتالیس باقی رہے کہ نصاب کے پانچویں حصہ سے کم ہے، لہٰذا باقی برسوں کی ابھی واجب نہیں اور اگر تین سو درم دَین متوسط تھے تو جب تک دو سو درم وصول نہ ہوں کچھ نہیں اور پانچ برس بعد دو سو وصول ہوئے تو اکیس ۲۱ واجب ہوں گے، سال اوّل کے پانچ اب سال دوم میں ایک سو پچانوے رہے ان میں سے پینتیس کہ خمس سے کم ہیں معاف ہوگئے، ایک سو ساٹھ رہے اس کے چار درم واجب لہٰذا سال سوم میں ایک سو اکانوے رہے، ان میں بھی چار درم واجب، چہارم میں ایک سو ستاسی رہے، پنجم میں ایک سو تراسی رہے ان میں بھی چار چار درم واجب، لہٰذا کُل اکیس درم واجب الادا ہوئے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما) 

    مسئلہ ۱۱: اگر دَین سے پہلے سال نصاب رواں تھا تو جو دَین اثنائے سال میں کسی پر لازم آیا، اس کا سال بھی وہی قرار دیا جائے گا جو پہلے سے چل رہا ہے، وقت دَین سے نہیں اور اگر دَین سے پہلے اس جنس کی نصاب کا سالِ رواں نہ ہو تو وقتِ دَین سے شمار ہوگا۔ (2) (ردالمحتار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، مطلب في وجوب الزکاۃ في دین المرصد، ج۳، 

ص۲۸۱ ۔ ۲۸۳، وغیرہما. 

2۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في وجوب الزکاۃ في دین المرصد، ج، ۳ص۲۸۳.
Flag Counter